القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 91

۹۱ وَ اَنْتَ تَرَى الْإِسْلَامَ قَفَرًا كَأَنَّهُ مَقَابِرُ أَمْوَاتٍ وَ أَرْضٌ سَبْسَبُ اور تو اسلام کو چٹیل میدان خیال کر رہا ہے گویا کہ وہ قبرستان ہے اور ایک بے آب و گیاہ زمین ہے۔تَصُولُ الْعِدَا مِنْ جَهْلِهِمْ وَعِبَادِهِمْ عَلَى صُحُفِ مَوْلَانَا وَكُلٌّ يُكَذِّبُ دشمن اپنی نادانی اور عناد سے حملہ کر رہے ہیں ہمارے مولا کے صحیفوں پر۔اور ہر ایک ( دشمن ) انہیں جھٹلا رہا ہے۔وَهَدَى كَسِمْطَى لُؤْلُوِ وَّ زَبَرْجَدٍ بِهِ الطَّفْلُ يَلْهُو مِنْ عِنَادٍ وَّ يَجُدِبُ اور قرآن تو ایک ہدایت ہے۔(خوبصورتی میں ) موتیوں اور زبرجد کی دولڑیوں کی طرح ہے۔پر طفلانہ ذہن بوجہ عناداس سے کھیلتا اوراس پر عیب لگا تا ہے۔وَ مِنْ كُلّ طَرْفٍ تَمْطُرَنَّ سِهَامُهُمْ فَهَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ يَوْمٌ عَصَبْصَبُ اور ہر طرف سے ان کے تیر برس رہے ہیں۔سو یہ اسلام پر ایک سخت دن ہے۔نرى هذه مِنْ كُلِّ قَوْمٍ بِعَيْنِنَا فَتَدْرِفُ عَيْنُ الرُّوْحِ وَالْقَلْبُ يَشْجَبُ یہ بات ہم ہر قوم کی طرف سے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔سوروح کی آنکھ آنسو بہا رہی ہے اور دل گڑھ رہا ہے۔فَقُمْتُ فَعَادَانِى عِدَايَ وَمَعْشَرِى فَلِى مِنْ جَمِيعِ النَّاسِ لَعُنْ مُّرَكَّبُ سو میں ( جواب کے لئے) اٹھاتو دشمنی کرنے لگے مجھ سے میرے دشمن بھی اور میرا خاندان بھی۔پس مجھے ایسے تمام لوگوں کی طرف سے اکٹھی لعنت پہنچی۔وَ لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَضْرَةُ الوثر مَلْجَةٌ وَ مِنْ بَابِ خَلَّاقِ الْوَرى أَيْنَ اَذْهَبُ اور خدائے واحد کی ذات کے سوا کوئی جائے پناہ نہ رہی اور مخلوق کے پیدا کرنے والے کے دروازے سے میں جا بھی کہاں سکتا ہوں۔فَإِنَّ مَلَاذِى مُسْتَعَانُ يُحِبُّنِي وَيَسْقِيْنِ مِنْ كَأْسِ الْوِصَالِ فَأَشْرَبُ سویقینا میری پناوت وہ وجود ہے جس سے مددمانگی جاتی ہے (اور) وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور مجھے وصال کا پیالہ پلاتا ہے۔سو میں پیتا ہوں۔غَيُورٌ فَيَأْخُذُ رَأْسَ خَصْمِي إِذَا اعْتَدَى غَفُوْرٌ فَيَغْفِرُ زَلَّتِي حِيْنَ أُذُنِبُ وہ غیرت مند ہے وہ میرے دشمن کو سرسے پکڑ لیتا ہے جب وہ حد سے بڑھتا ہے وہ خطہار ہے وہ میری لغزش کو ڈھانپ دیتا ہے جب میں قصور کرتاہوں۔وَ إِنِّي بَرِى مِنْ رَيَاحِينَ غَيْرِهِ وَعَذَابُ شَوْلٍ مِّنْهُ عَذَبٌ وَّ طَيِّبُ میں اس کے غیر کی طرف سے آنے والی ) خوشبوؤں سے بھی بیزار ہوں اور اسکی طرف سے کانٹے کی تکلیف بھی (میرے نزدیک ) شیریں اور عدہ ہے۔