القصائد الاحمدیہ — Page 90
۹۰ وَمَنْ كَانَ لَا يَتَأَدَّبَنْ مِنْ نَّاصِحِ فَلَهُ دَوَاهِي الدَّهْرِ نِعْمَ الْمُؤَدِّبُ اور جو نا صح سے ادب حاصل نہیں کرتا تو اس کے لیے حوادث زمانہ اچھے موڈب ہیں۔أَيَا لَاعِنِي مَا كُنْتَ بِدْعَا مِّنَ الْهَوَى لِكُلّ مِّنَ الْعُلَمَاءِ رَأَى وَ مَذْهَبُ اے مجھے لعنت کرنے والے ! تو ہوائے نفس میں کوئی نیا شخص نہیں ہے۔عالموں میں سے ہر ایک کے لیے رائے اور مذہب ہے۔عَلَيَّ لِرَبِّي نِعْمَةٌ بَعْدَنِعْمَةٍ فَلَا زِلْتُ فِي نُعْمَائِهِ وَتَقَلَّبُ مجھ پر میرے خدا کی نعمت پر نعمت ہے۔میں ہمیشہ اس کی نعمتوں میں لوٹ پوٹ رہتا ہوں۔وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ شَمُسٌ مُّنِيْرَةٌ وَبَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ بَدْرٌ وَّ كَوْكَبُ اور بے شک رسول اللہ ﷺ تو روشنی دینے والے سورج ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد چودھویں کا چاند اور ستارے ہیں۔جَرَتْ عَادَةُ اللَّهِ الَّذِي هُوَ رَبُّنَا يُرِى وَجْهَ نُوْرٍ بَعْدَ نُورٍ يَذْهَبُ اللہ تعالیٰ جو ہمارا رب ہے اس کی یہ عادت جاری ہے کہ وہ ایک نور کے جانے کے بعد دوسرے نور کا چہرہ دکھا دیتا ہے۔كَذلِكَ فِي الدُّنْيَا نَرى قَانُونَهُ نُجُومُ السَّمَا تَبْدُو إِذَا الشَّمْسُ تَغْرُبُ اسی طرح دنیا میں ہم اس کا قانون پاتے ہیں کہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو آسمان کے ستارے ظاہر ہو جاتے ہیں۔خَفِ اللَّهَ يَا مَنْ بَارَزَ اللَّهَ مِنْ هَوى وَ إِنَّ الْفَتَى عِنْدَ التَّجَاسُرِ يَرْهَبُ اللہ سے ڈر اے شخص! جس نے ہوائے نفسانی سے خدا کا مقابلہ کیا اور بے شک جواں مرد ایسی دیدہ دلیری دکھاتے ہوئے خوف کھاتا ہے۔وَلَا تَطْلُبَنُ رَيْحَانَ دُنْيَاكَ خِسَّةَ وَشَوْكُ الْفَيَافِى مِنْهُ اَشْهَى وَ أَطْيَبُ تو اپنی دنیا کی خوشبو کو کمینگی سے طلب مت کر حالانکہ جنگلوں کے کانٹے بھی اس کی نسبت زیادہ مرغوب اور اچھے ہیں۔يَزِيدُ الشَّقِيَّ شَقَاوَةً طُولُ اَمْنِهِ وَيُرْخِى الْمُهَيْمِنُ حَبْلَهُ ثُمَّ يَجْذِبُ بد بخت کا لیے عرصہ تک بے خوف رہنا اسے بدبختی میں بڑھا دیتا ہے او خدائے مین اس کی ری کو ڈھیلا کرتا ہے اور پھر سے کھینچ لیتا ہے۔إِذَا مَا قَصَدْتُ إِشَاعَةَ الْحَقِّ فِي الْوَرى صَدَدْتَ وَ تُبْدِي كُلَّ خُبُثِ وَ تَعْلُبُ اور جب میں نے مخلوق میں حق کی اشاعت کا ارادہ کیا تو روک بنا اس حال میں کہ تو خباثت ظاہر کر رہا اور عیب لگا رہا ہے۔