القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 89

۸۹ تَصُولُ عَلَيَّ لِهَتْكِ عِرْضِی وَ اَعْتَلِی وَاَعْطَانِي الرَّحْمَنُ مَا كُنْتُ أَطْلُبُ تو تو میری ہتک عزت کے لیے مجھ پر حملہ کرتا ہے اور میں بلند ہوتا ہوں اور مجھے رحمان نے وہ کچھ دیا ہے جو میں طلب کرتا ہوں۔تَرى عِزَّتِي يَوْمًا فَيَوْمًا فَتَنْشَوِى وَتَهُذِى كَأَنَّكَ بِالْهَرَاوِي تُضْرَبُ تو میری عزت کو دن بدن ترقی پر پاتا ہے سوتو جلتا بھنتا ہے اور بکواس کرتا ہے جیسے کہ تجھے لاٹھیوں سے مارا جارہا ہے۔أَرى أَنَّ نَشْزِى فِيْكَ كَالرُّمْحِ لَاعِجٌ وَيُلَاعِجَنَّكَ شَأْنُنَا الْمُتَرَقَّبُ میں دیکھتا ہوں کہ میری ترقی تجھ میں نیزے کی طرح درد پیدا کرنے والی ہے اور ضرور دردناک کرے گی تجھے ہماری وہ حالت جس کا انتظار ہے۔وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ فِي الْقَلْبِ غَيْرُ تَغَيُّظٍ فَلَا الْقَلْبُ إِلَّا جَمْرَةٌ تَتَلَهَّبُ اور اگر دل میں سوائے غصہ کے اور کچھ نہ ہوتو پھر دل نہ ہوا بھڑکتی ہوئی چنگاری ہی ہوئی۔وَلَا تَحْسَبَنُ قَلْبِى إِلَى الصِّغْنِ مَائِلًا تَعَاشِيبُ أَرْضِيْ خُلَّةٌ وَتَحَبُّبُ تو میرے دل کو کینے کی طرف مائل خیال نہ کر۔میری زمین کے گھاس تو دوستی اور محبت ہیں۔كَمِثْلِكَ عَادٍ مَّارَأَيْتُ وَلَاعِنَّا أَقَوْلُكَ قَوْلٌ أَوْسِنَانٌ مُّذَرَّبُ تیرے جیساد ثمن اور لعنت کرنے والا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔کیا تیرا کوئی قول ہے یا کہ تیز کیا ہوا نیز ہ؟ أَرَدْتَ وَبَالِي لَكِن اللهُ صَانَنِي تَنَدَّمُ فَقَدْ فَاتَ الَّذِي كُنْتَ تَطْلُبُ تو نے میر او بال چاہا لیکن اللہ نے مجھے محفوظ رکھا۔پشیمان ہو کہ جو کچھ تو طلب کرتا تھا وہ ہونے سے رہ گیا ہے۔وَ لَسْتَ عَلَى مُصَيْطِرًا وَّ مُحَاسِبًا وَمَا يُعْطِيَنَّ الرَّبُّ أَفَأَنْتَ تَسُلُبُ تو مجھ پر کوئی داروغہ اور محاسب نہیں ہے۔جو کچھ مجھے (میرا) رب دے رہا ہے کیا تو (اسے) چھین سکتا ہے؟ تَرَفَّقُ فَإِنَّ الرِّفْقَ لِلنَّاسِ جَوْهَرٌ وَ مَا يَتْرُكُنْ سَيْفٌ فَبِالرِّفْقِ يُجْلَبُ نرمی اختیار کر کیونکہ نرمی لوگوں کی خوبی ہے اور جو کام تلوار سے نہ ہو سکے وہ نرمی سے حاصل ہوسکتا ہے۔وَلَا تَشْرَبَنْ جَهْلًا أَجَاجَ عَدَاوَةٍ وَوَاللَّهِ إِنَّ السّلمَ أَحْلَى وَ أَعْذَبُ اور نادانی سے عداوت کا کھاری پانی نہ پی اور خدا کی قسم اصلح بہت شیر میں اور بہت میٹھی ہے۔