اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 92
الهدى و التبصرة لمن يرى ۹۲ اردو ترجمہ السماوات والأرض لقوم اور زمین سے بھی بے شمار نشان ظاہر ہو چکے يتقون۔وقيل إن كنتم في شك ہیں۔اُن سے کہا گیا کہ اگر میرے کلام میں من كلامي فأتوا بكلام من مثله کسی شک میں ہو تو اس جیسا کلام پیش کر و پس فما آتوا بمثله وما تركوا الظن نہ تو وہ اس جیسا کلام لائے اور نہ ہی انہوں الذى به أنفسهم يُهلكون۔وإن نے وه بدظنی ترک کی۔جس کی وجہ سے وہ منصب العلماء خطب خطیر اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔علماء کا منصب وأمر كبير۔لا يليق لهذه اتنی اہم ذمہ داری اور عظیم امر ہے کہ اس الخدمة الا الذى فتحت عليه خدمت کو صرف وہی شخص بجالا سکتا ہے جس پر أبواب الحجة البالغة۔ورزق حجت بالغہ کے در کشادہ کر دئیے گئے ہوں اور نظرًا مُنَقَّحًا من حضرة الغيب جسے غیب سے محققانہ نظر عطا کی گئی ہو اور ایسا وعِلمًا مُنزّها عن الشك علم دیا گیا ہو جو شک و شبہ سے پاک ہو اور والريب۔ومع ذالك أعطى مزيد بر آں اُسے شیریں بیانی ، ادبی شہ عذوبة البيان والملح الأدبية پارے اور مافی الضمیر کو حسین پیرایوں میں والحلل المستحسنة لإراء ة ما ادا کرنے کی صلاحیت دی گئی ہو۔اور وہ في الجنان۔و عُصِم من معرة کوتاه بیانی اور ہکلا ہٹ کے عیب سے محفوظ الحصر واللكن۔وأسبغ عليه ہو اور زبان دانی کی نعمت سے مالا مال کیا گیا عطاء اللسن۔ولكن هؤلاء ہو۔لیکن یہ لوگ جو اپنے آپ کو علماء کہتے الذين يُسمّون أنفسهم علماء۔ہیں۔اللہ نے ان کے نصیب میں شوروغوغا ما أعطاهم قسمة الله الا کے سوا کچھ نہیں رکھا۔وہ قرآن پڑھتے ہیں الضوضاء۔قرء وا القرآن وما لیکن صرف زبان کی حد تک۔قرآن ان کے مس القرآن الا اللسان۔وما دلوں سے اور ان کے دل قرآن سے شناسا رأى القرآن جنانهم وما رأی نہیں۔انہوں نے ایسی حرکتوں کا مظاہرہ کیا