اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 156
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۵۶ اردو ترجمہ وما بقيت الآذان ولا العيون جو بن پر ہو اور سیاہ چمڑے جیسی تاریک وغشيهم كبر الفلسفة كما وتار ہو۔نہ کان بچے اور نہ آنکھیں۔فلسفے کی يغشى الجنون۔ويقولون إنا بڑائی ان پر ایسی چھا چکی ہے جیسے جنون ( عقل نشرب النقاخ والعامة لا پر چھا جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم صاف پانی يتجرعون الا الأوساخ وقوم پیتے ہیں جبکہ عوام گدلا پانی پیتے ہیں۔ان دونـــــــم لبسوا لباس کے علاوہ ایک اور قوم ہے جنہوں نے لباس تو النصرانيين۔ويقولون إنا نحن عیسائیوں جیسا پہن رکھا ہے لیکن کہتے یہ ہیں کہ من المسلمين۔ومع ذالك ہم مسلمان ہیں۔بایں ہمہ وہ نما ز اور روزے فرغوا من الصلاة والصيام۔وإن سے فارغ ہیں۔گو وہ اسلام کا مذاق نہیں كانوا لا يضحكون على الإسلام اُڑاتے لیکن تو ان میں اہل ایمان کی سی خُوبُو لا ترى شيئا معهم من حلل نہیں پائے گا۔بلکہ ان کا طور طریقہ عیسائیوں أهل الإيمان۔بل تری شعار ہم جیسا ہے۔وہ ان کی لڑکیوں سے ہی شادی كشعار أهل الصلبان لا کرتے ہیں اور صرف ان کی دانش کی ہی تعریف يتزوجون الا بناتهم۔ولا يحمدون کرتے ہیں۔انہوں نے دنیا کی خاطر شریعت إلا حصاتهم۔شروا بالدنيا اور تقویٰ کو بیچ دیا ہے ، بالکل اس شخص کی طرح الشرع والورع كرجل أجباً جو کھیتی کو اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی الزرع۔واذا أمعنت النظر في فروخت کر دیتا ہے۔اگر تو ان کے خد و خال اور وسمهم۔وسرحت الطرف فی چہرے مہرے کو گہری نظر سے مشاہدہ کرے تو نہ ميسمهم۔ما ترى على وجوههم تو ان کے چہروں پر مومنوں کے نور کے آثار آثار نور المؤمنين۔ولا سمت نظر آئیں گے اور نہ ہی صالحین کا طور طریقہ۔الصالحين فهؤلاء أحداث یہ ہیں ہماری قوم کے نوجوان جن پر مستقبل کا