اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 148

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۴۸ اردو ترجمہ إليهم من تلاوة القرآن و مرغوب ہے اور شعراء کی لاف زنی ان کی نگاہوں دقاقير الشعراء أملح فی میں خدائے رحمان کی آیات سے زیادہ ملاحت أعينهم من آيات الله الرحمان رکھتی ہے۔وہ دین سے اس طرح نکل گئے ہیں خرجوا من الدين كما يخرج جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔انہوں نے اوامر من القوس۔وداسوا الہی کو کلیۂ پامال کر دیا ہے۔تجھے ان میں ذرہ بھر بھی أوامر الله كل الدوس۔ما ترى اتباع سنت نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی سیرت نبوی کا فيهم ذرّة من اتباع السنة۔شائبہ تک دکھائی دے گا۔اُن میں سے اکثر نے ولا كفتيل من السير النبوية۔اباحت کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔اور خدا وكثير منهم فتحوا أبواب بننے کے لئے اور عبادت کی مشقتوں سے بچنے کے الإباحة۔وأووا إلى عقيدة وحدة لئے وحدت الوجود کے عقیدہ کی پناہ لئے ہوئے الوجود ليكونوا آلهة ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کی خواہشات ہماری وليستريحوا من تكاليف العبادة۔دعا کی وجہ سے پوری ہوئی ہیں تا کہ یہ یقین کر لیا يقولون أن كثيرا من الناس رأوا من جائے کہ فی الواقع ایسا ہی ہے اور وہ واقعی اولیاء میں دعاء نا وجه الاهواء ليظن ان الأمر كذالك وهم من الأولياء۔سے ہیں اور تا کہ اس طرح لوگ مال و دولت لے کر ان کی طرف بھاگتے چلے آئیں جس طرح وہ وليسعى الناس إليهم بد راهم صلحاء کی جانب دوڑ کر آتے ہیں۔اور جب اُن پر كما يسعون إلى الصلحاء۔وإذا قرء عليهم كتاب الله أو قول كتاب اللہ پڑھی جائے یا رسول اللہ کا کوئی قول پیش کیا جائے تو انہیں اس سے ذرہ بھی خوشی حاصل رسوله لا يُطربهم شيء من ذالك۔ثم إذا قرء بيت من نہیں ہوتی۔ہاں جب کوئی شعر پڑھا جائے تو الأبيات فإذا هم يرقصون۔جھومتے ہوئے یکدم رقص کرنے لگتے ہیں۔جس ومن لعنه الله فمن يفتح عيونه؟ شخص پر اللہ لعنت کرے تو پھر بھلا اور کون ہے جو اس کی آنکھیں کھولے۔پس وہ جو چاہیں کریں۔فليعملوا ما يعملون۔