اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 116

الهدى و التبصرة لمن يرى 117 اردو ترجمہ۔صعيدا جُرُزًا۔والذين آووا إلى ایسی بلا ہے جس نے کسی نشیب وفراز کو نہیں چھوڑا۔قریتی مخلصين وأطاعون اور جب وہ کسی علاقے کا رخ کرتی ہے تو اُسے فأرجوا أن يعصمهم الله من چٹیل میدان بنادیتی ہے۔اور جن لوگوں نے میری الطاعون۔إنّ هذا وعد من ربّ اس بستی (قادیان) میں اخلاص سے پناہ لی اور العزة والقدرة۔وإن أنكرته ميرى اطاعت کی مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں العيـون الـتـي مـا أُعطى لها حظ طاعون سے محفوظ رکھے گا۔یہ عزیز و مقتدر رب کا من البصيرة۔فالأسف كل وعدہ ہے۔اگر چہ اُن نگاہوں نے جنہیں بصیرت الأسف على العلماء۔لا يرون ما سے کچھ حصہ نہیں ملا اس کو نہیں پہچانا۔افسوس صد اراهم الله من السماء وأكلوا افسوس ان علماء پر کہ وہ نہیں دیکھتے جو اللہ تعالیٰ نے رأس المائة كرأس الضأن وما انہیں آسمان سے دکھایا۔انہوں نے صدی کے سر کو فگروافي مواعيد الرحمان دُنبے کے سر کی طرح کھا لیا ہے۔اور خدائے رحمان وانجلــى الشمس والقمر بعد کے وعدوں پر غور وفکر نہیں کیا۔رمضان میں گرہن کسوف رمضان۔وما انجلی لگنے کے بعد شمس و قمر بھی روشن ہو گئے لیکن ان کے قلبهم من ظلمة خجلت دل ایسی تاریکی سے باہر نہ نکلے جو شیطان کو بھی الشيطان۔أما رأوا هاتين الآيتين شرمندہ کر دے۔کیا انہوں نے ان دو آسمانی من السماء ؟ مرّة في أرضنا هذه نشانوں (کسوف و خسوف ) کو نہیں دیکھا۔جو ایک ومرة في أهل الصلبان من مرتبہ ہماری اس زمین میں ظہور پذیر ہوا اور ایک الأعداء ؟ فما لهم لا ينتهون مرتبہ دشمنوں میں سے عیسائیوں کی زمین میں۔وبآيات الله لا يؤمنون؟ أم انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ باز نہیں آتے اور اللہ کے أسألهم من أجر فهم من مغرم نشانات پر ایمان نہیں لاتے۔کیا میں اُن سے کسی مثقلون؟ فليفروا من آيات الله صلے کا طلب گار ہوں کہ وہ اس تاوان کی وجہ سے زیر بار فسوف يعلمون ألا يرون ان ہو رہے ہیں؟ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات سے۔