اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 32

الهدى و التبصرة لمن يرى ۳۲ اردو ترجمہ العادل تعبير أعلى و أرفع واعم لوگوں کے حق میں خیر و برکت اور بہت وأنفع۔وهى للناس كلهم خير و ہی درست اور صاف ہے۔مگر عامی کی مع ذالك أصح و ألمع۔وأما رؤيا رويا اكثر صورتوں میں آمیزش اور رجل هو من أدنى الناس۔فلا میل کچیل سے پاک نہیں ہوتی۔اس يتخلص في أكثر صورها من کے علاوہ اس کا اثر بیٹوں اور باپوں الالتباس، بل من الأدناس۔ثم مع یا تھوڑے سے دوستوں سے آگے نہیں ذالك لا تجاوز أثرها من الأبناء جاتا۔اور اگر اغیار سوار بھی ہوں تو والآباء۔أو شرذمة من الأحباء۔وإن بھی بہت ہی نز دیک جگہ میں ڈیرے ركب هؤلاء الأغيار ينيخون ڈال دیتے ہیں اور پالانوں سے اتر کر بأدنى الأرض مطايا التسيار۔و آشیانوں میں گھس جاتے ہیں۔مگر قرآن ينتقلون من الأكوار إلى الأوكار۔کریم کے سواروں کا یہ حال ہے کہ وہ آبادی وأما خيل الفرقان فيجوبون كل کے ہر دائرہ کو قطع کرتے ہیں۔قرآن کریم ایک کتاب ہے جس کے نیچے عرفان کے دریا دائرة العمران وهو كتاب 1 (۳۵) تجرى تحته بحار العرفان ولا بہتے ہیں۔اور کسی گویائی کا پرندہ اس سے فوق يطير فوقه طير التبيان۔و ما تكلّم أحد إلا اذان من خزائنه۔وأخرج من بعض دفائنه۔وأرى اُڑ نہیں سکتا۔اور ہر پونچھی والا اسی کے خزانوں اور دفینوں سے کچھ لیتا ہے اور میرے نزدیک ہر متکلم اس قرضہ میں مبتلا ہونے کے بغیر محض تہی كل متكلّم صفر اليدين من غير دست ہے۔اور قرضدار سے سخت تقاضا کیا جاتا التطوّق بهذا الدين و كل غريم يجد في التقاضي۔ويلج في اور سخت کوشش کی جاتی ہے کہ قاضی تک پہنچا کر الاقتياد إلى القاضي۔وأما القرآن اس سے روپیہ وصول کیا جائے۔مگر قرآن کریم فيتصدق على أهل الاملاق تنگ دستوں کو صدقات دیتا اور ساری تنگیاں وينزع عن الارهاق۔بل يُعطى دور کرتا بلکہ اخلاص والوں کو سونے کی ڈلیاں