اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 38

الهدى و التبصرة لمن يرى ۳۸ اردو ترجمہ من نهض للمخالفة۔ويولون جو ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہو الدبر مع كثرة الجند والدولة شکست کھاتے ہیں اور باوجود کثرت والشوكة۔وما هذا إلا أثر السخط لشکروں اور دولت اور شوکت کے۔الذي نزل عليهم من السماء بھاگ نکلتے ہیں۔اور یہ سب اثر ہے اس بما آثروا شهوات النفس على لعنت کا جو آسمان سے اُن پر برستی ہے اس حضرة الكبرياء۔وبما قدموا لئے کہ انہوں نے نفس کی خواہشوں کو خدا پر على الله مصالح الدنيا الدنية مقدم کر لیا۔اور نا چیز دنیا کی مصلحتوں کو اللہ پر وكانوا عظيم النهمة في لذاتها اختیار کرلیا۔اور دنیا کی فانی لہو ولعب اور وملاهيها الفانية۔ومع ذالك لذتوں میں سخت حریص ہو گئے اور ساتھ اس كانوا أُسارى في ذميمة النخوة کے خود بینی اور گھمنڈ اور خود نمائی کے ناپاک والعجب والرياء۔الکسالی فی عیب میں اسیر ہیں۔دین میں سست اور ہار الدين والفاتكين في سبل الأهواء کھائے ہوئے اور گندی خواہشوں میں فكيف يُعطى لسقط جُلی چست چالاک ہیں۔سو ایک پست ہمت کو ومكرمة؟ وكيف يوهب لفضلة بزرگی کیونکر دی جائے اور ایک فضلہ کو فضيلة ومرتبة۔فإنهم بسأوا فضيلت اور مرتبہ کیونکر مرحمت ہو۔اس لئے بالشهوات۔ونسوا رعاياهم کہ انہوں نے خواہشوں سے اُنس پکڑ لیا اور ودينهم وما أدوا حق التكفّل اپنی رعیت اور دین کو فراموش کر دیا۔والمراعات۔يحسبون بیت اور پوری خبر گیری نہیں کرتے۔بیت المال کو المال كطارف أو تالدورثوه من باپ دادوں سے وراثت میں آیا ہوا مال الآباء۔ولا يُنفقون الأموال علی سمجھتے ہیں۔اور رعایا پر اُسے خرچ نہیں مصارفها كما هو شرط الاتقاء کرتے جیسے کہ پر ہیز گاری کی شرط ہے۔ويظنون كأنهم لا يُسألون۔وإلى اور گمان کرتے ہیں کہ ان سے پرسش نہ ہوگی