اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page iv of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page iv

ii و وفقت لتأليف ذالك الكتاب۔ فسأرسله اليه بعد الطبع و تكميل الابواب ۔ فان اتى بالجواب الحسن و احسن الردّ عليه۔ فاحرق كتبی و اقبل قدميه۔ واعلق بذيله۔ و اكيل الناس بكيله۔ وها انا اقسم برب البرية۔ أُؤَكِّدُ العهد لهذه الآلية۔ الهدى ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۶۴) اور مجھے اس کتاب کی تألیف کی توفیق بخشی گئی ۔ سو میں بعد چھپ جانے اور اس کے بابوں کی تکمیل کے اس کی طرف بھیجوں گا۔ پھر اگر منار نے اس کا جواب خوب دیا اور عمدہ رڈ کیا تو میں اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کے پاؤں چوم لوں گا اور اس کے دامن سے چمٹ جاؤں گا اور پھر لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔ اور لومیں پروردگار جہاں کی قسم کھاتا ہوں اور اس قسم سے عہد کو پختہ کرتا ہوں ۔ اس کتاب میں حضور نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی۔ و اخفى۔ ام له في البراعة يدطولى سيهزم فلا يُرى ۔ نبأ من الله الذي يعلم السر الهدی روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۵۴ ) آیا فصاحت و بلاغت میں اسے بڑا کمال حاصل ہے؟ عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر نظر نہ آئے گا یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے جو نہاں در نہاں کو جاننے والا ہے۔ علامہ رشید رضا الهدای“ کی اشاعت کے بعد تمیں سال تک زندہ رہا مگر اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب الهدی و التبصرة لمن يرى “ جیسی فصيح كتاب لکھنے کی توفیق نہ ملی۔ الهدی کی تالیف ربیع الاول ۱۳۲۰ھ میں مکمل ہوئی اور ۱۲ رجون ۱۹۰۲ء کو چھپ کر شائع ہوئی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب الهدی و التبصرة لمن يرى “ کے پہلے ۶۷ صفحات کا ترجمہ خود سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اردو زبان میں کر کے ایڈیشن اول