اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 28

الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۸ اردو ترجمہ أنفسهم۔ وزايلوا وجارهم۔ و دونوں کو پاک کیا ہوتا ہے اور اپنے نفس سے نکل رحموا من جار عليهم وجارهم چکے اور اپنے نشیمن کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وأطفأوا نار النفس و كملوا بیدادگر اور ہمسائے سے پیار کرتے ہیں اور انہوں أنوارهم۔ وأما نفوس أهل الدنيا نے نفسوں کی آگ بجھادی ہوئی ہوتی اور اپنے فتشابه يوما جوه مزمهر ۔ ودجنه نوروں کو کامل کیا ہوا ہوتا ہے۔ مگر دنیا داروں کے مكفهر ۔ وتراهم عاری الجلدة نفس اس دن کی مانند ہوتے ہیں جس کی فضا میں من حلل الاتقاء ۔ وبادی خطرناک سردی اور اس کے بادل سخت گھنے اور الجردة من غلبة الفحشاء ۔ قد تاریک ہوں ۔ یہ لوگ تقویٰ کے لباسوں سے برہنہ اعتموا بريطة الاستكبار اور بدکاریوں کے غلبہ کے سبب سے محض ننگے واستثفروا بفويطة الخيلاء ہوتے ہیں۔ انہوں نے گھمنڈ اور خود بینی کے والفجار۔ فكيف يؤيدون من رب کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ سوایسے حال میں خدا کی الـعـالـمـيــن۔ بل وراء هم ضفف طرف سے انہیں کیونکر تائید ملے۔ ان کے پیچھے ان وكرش يدعونهم إلى الشياطين كے بال بچے اور عیال پڑے رہتے ہیں جو انہیں يبكون أنهم أهلكوا من الشظف شیطان کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ روتے ہیں کہ فقر وصفر الراحة۔ وحصهم جنف فاقہ اور افلاس سے ہلاک ہو گئے اور لاغری اور تنگ وقشف فما بقى معهم ذرة من گذرانی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ذرہ بھر الراحة۔ ثم يقولون نحن سراة بھی آرام اور چین انہیں نہیں۔ پھر بھی کہے جاتے أندية الأدب۔ وحماة لسن العرب ۔ ہیں کہ ہم ادب کی انجمنوں کے سردار اور زبان كلا بل ركدت ريحهم۔ وخَبَت عرب کے حامی کار ہیں۔ جھوٹے ہیں بلکہ ان کی مصابيحهم۔ وأجدبت بقعتهم۔ ہوا ٹھہر گئی ہوئی ہے اور ان کے چراغ گل ہو چکے وتخلى بعد الإخلاء منتجعهم ہیں اور ان کی زمین خشک سالی کی ماری ہوئی ہے ونجعتهم۔ ولن يُردّ إليهم جلالة اور خیر و برکت ان سے بالکل جاتی رہی ہے۔ اُن