اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 24

الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۴ اردو ترجمہ منيرا۔ ورجل آخر أراد کوئی ساتھی ہے اور نہ سفر خرچ ہی پاس ہے۔ سفرا بالخيل والرجالة اور نہ کوئی بدرقہ ملتا اور نہ کوئی مژده رسان نظر آتا فتدثر فرسا كالغزالة۔ و ہے اور نہ روشن چراغ ۔ اور ایک اور شخص ہے جس خرج من البلدة إذا ذرّ قرن نے سفر کرنا چاہا ہے سواروں اور پیادوں کے الغزالة مع رفقة كالهالة ساتھ ۔ پس وہ آہووش گھوڑے پر سوار ہوا اور عاصمين من الضلالة۔ هل آفتاب کے چڑھتے ہی شہر سے نکل کھڑا ہوا اپنے يستوى ذالك وهذا عند چند رفیقوں کے ساتھ جو ہالہ کی طرح تھے اور بھٹکنے أولى النهى۔ وإن في ذالك سے بچانے والے تھے۔ کیا دانشمندوں کے لعبرة لمن يخشى۔ فالحق نزدیک یہ دونوں شخص برابر ہیں ۔ اس مثال میں والحق أقول إن أهل ڈرنے والے کے لئے عبرت ہے۔ سوچ یہی ہے الله يرزقون من ربّ العباد اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ کے لوگوں کو بندوں ويهدون إلى طريق السداد کے پروردگار سے روزی ملتی ہے اور درستی کی راہ ويُهياً لهم جميع لوازم کی طرف انہیں چلایا جاتا ہے۔ اور کامیابی کے الرشاد۔ ويُعطى لهم كل قوة سارے لوازم ان کے لئے بہم پہنچائے جاتے وجبت للعتاد۔ وكفت للارتقاء ہیں اور انہیں ساز و سامان کے لئے جتنی قوت درکار على المصاد۔ فما كان لأهل ہوتی ہے اور صید گاہ پر چڑھنے کے لئے کافی ہوتی ٢٦ الدنيا أن يُسابقوهم ويأتوا بأكباد ہے بخشی جاتی ہے۔ سو دنیا داروں کے برتے میں مثل تلك الأكباد۔ ولو استنوا نہیں ہوتا کہ ان سے آگے نکل جائیں اور ان کا استنان الجياد۔ وكيف وإن سادل گردہ لائیں۔ خواہ گھوڑوں کی طرح قلوبهم منتشرة كانتشار الجراد دوڑیں۔اور یہ ہو کیونکر سکتا ہے اس لئے کہ اہل دنیا وإن السنهم على النجاد کے دل ٹڑیوں کی طرح پراگندہ ہوتے ۔ ان کی وأرواحهم في الوهاد۔ يقولون إنا زبانیں تو بیشک اونچی زمین پر ہوتی ہیں پر