اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 25

الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۵ اردو ترجمہ نحن مـن الـعــرب وغُدينا من روحیں گڑھوں میں۔کہتے ہیں ہم عرب ہیں أمهاتنا درّ الأدب۔وإنا فى مُلْكِ اور ہمیں ہماری ماؤں نے ادب کا دودھ النطق كاقيال۔وأبناء أقوال۔فقد پلایا ہے اور ہم گویائی کے ملک کے سردار استكبروا بنفوسهم الأبية۔ہیں اور پسران گفتار ہیں۔سو یہ لوگ سرکش وألسنتهم العربية۔وأوطنوا نفوں سے گردنیں اکڑا رہے ہیں۔أنفسهم امـنــع جناب وزعموا اور اپنے تئیں بڑی مضبوط بارگاہ میں جگہ أنهم يفلّون حد کل ناب دیتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ ہر ایک عظیم ومـــــاعــــرفــوا من غباوة الشان آدمی کو ہرا سکتے ہیں اور نادانی کی وجہ الجنان أن أولياء الرحمان سے نہیں سمجھ سکتے کہ خدا کے دوستوں کو وہ يُعطون ما لا يُعطى لأهل اللسان۔حسن بیان اور معارف دیئے جاتے ہیں جو من المعارف وحسن البيان ولا اہل زبان کو نہیں ملتے۔اور دوسرے لوگ يُدرك براعتهم غيرهم مع جهد خواہ کتنی ہی زحمت اٹھا ئیں اور وقت خرچ رف الزمان وأنّى لهم كريں ان کے کمال کو پانہیں سکتے اور سحبان کی نصيب من هذا الشان۔ولو أوتوا بلاغت بھی انہیں مل جائے جب بھی انہیں اس بلاغة سحبان۔فإنهم ما صقلوا شان سے کہاں حصہ مل سکتا ہے۔اس لئے کہ مرآة الإيمان وما ذاقوا طعم انہوں نے ایمان کے آئینہ کو تو کبھی جلا دی ہی (۲۷) العرفان۔ثم جمعوا بين الحمق نہیں۔اور عرفان کا مزا کبھی چکھا ہی نہیں۔پھر والحرمان۔وما استطاعوا أن اس کے علاوہ حماقت اور محرومی دو باتیں ان کے يرجعوا إلى الرحمن بل صار حصے میں آئی ہیں اور وہ خدا کی طرف رجوع نہیں شغل جرائدهم في سُبُلهم کر سکتے بلکہ اخبار نویسی کا شغل ان کی راہ میں كالصلات۔فهم يحافظون عليه بڑی بھاری چٹان بن گیا ہے۔سو وہ اس شغل كفريضة الصلاة، يشيعون میں فریضہ نماز کی طرح لگے رہتے ہیں۔اور