اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 17

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۷ اردو ترجمہ القرائح البليدة۔وحسبوا كلمه کو دن اجد طبیعتوں کی عادت ہوتی ہے۔اور كالأسلحة الحديدة۔وأشاعوها انہوں نے منار کی باتوں کو تیز ہتھیار سمجھا اور في الأخبار والجوائب الهندية۔ہندوستان کے اخباروں میں انہیں شائع کیا۔وكتبوا كل ما يشق سماعها على اور ایسی باتیں لکھیں جن کا سننا پاک اور بُری الهمم البريئة المبرءة۔وآذوا ہمتوں کو سخت ناگوار ہوتا ہے اور میرے دل قلبی کماهی عادة الرذل کو دکھایا جیسے کہ عادت کمینوں اور نادانوں والسفهاء۔وسيرة الأراذل من کی اور سیرت سفلہ دشمنوں کی ہوتی ہے۔الأعداء۔وكانوا يمشون مرحا اور وہ بڑے گھمنڈ سے اترا کر اور اکڑ کر چلتے بالخيلاء والامتطاء۔كأنهم تھے گویا انہیں بڑے اعلیٰ درجہ کی خوبصورت ألبسوا من حلل الحبر والوشاء پوشاکیں پہنائی گئی ہیں یا بڑے بڑے شہران أو فُتِحت عليهم مدائن أو ردّ کے قبضہ میں دیئے گئے ہیں یا ان کے مرے أحياء هـــم الميتون إلى ہوئے دوست پھر اپنے اپنے قبیلہ میں واپس الاحياء۔وأحسست ان فتنتھم کئے گئے ہیں اور میں نے محسوس کیا کہ ان کا یہ هذه تضر العامة كالأغلوطات فتنہ عام لوگوں کو دھو کے میں ڈال کر سخت ضرر ويُعدون هذه الأقوال من دے گا اور ان باتوں کو وہ بڑی پکی الشهادات القاطعات و کفی گواہی سمجھیں گے۔اور بعض جاہلوں کے هذا القدر لخدع بعض الجهلاء۔فریب دینے کو اور بعض کم عقل ساده (19) وإغلاط بعض البله قليل الدهاء۔لوگوں کے دھوکا دینے کو بس ہے۔پس فرأيت جوابه علی نفسی میں نے اس کا جواب دینا اپنے او پر حق حق واجبًا لا يوضع وزره بدون واجب سمجھا جس کا بوجھ ادا کئے بغیر اتر القضاء۔ودينا لازما لا يسقط نہیں سکتا اور لا زم قرض یقین کیا جس میں حبة منه بغير الأداء۔فإن دفع سے ایک حبہ بھی ادا کرنے کے سوا ذمہ