اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 16

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۶ اردو ترجمہ أن يعم فتنهم هذه البلاد۔ ورأیت ہیں اور ڈر پیدا ہوا کہ ان کا فتنہ ان شہروں میں أنهم يرونني بشزر عينيهم۔ پھیل جائے گا ۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ میری ويصفقون بيديهم۔ ويأخذونني طرف حقارت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور كالتلـعـابة۔ ويُجعجعون بھی تالیاں بجاتے ہیں اور مجھے ایک کھلونا سمجھتے للدعابة۔ ويجعلون کلام المنار ہیں ۔ اور بنی کھیل کے لئے مجھے محبوس کرتے كحيلة للتجهيل والتخطية ہیں اور منار کے کلام کو حیلہ بناتے ہیں میرے والاحتقار ۔ شمرت تشمير من لا جاہل بنانے اور خطا کا ر ٹھہرانے اور حقیر جاننے يألو جهادًا۔ ويضع فأسا في رأس میں تو پھر میں نے بھی ایک پورے مجاہد کی طرح من رمي الجندل عنادًا۔ و بالذی کمر کس لی جو کلہاڑا مارتا ہے اُس شخص کے سر میں سبقت رحمته غضبه وفلت جو دشمنی سے اس پر پتھر پھینکے۔ قسم اُس کی جس کی رأفته عضبه۔ ما كنت أظن في رحمت اُس کے غضب پر بڑھ گئی ہے۔ اور جس صاحب الـمـنـار إلا ظنّ الخیر کی مہربانی نے اُس کی تلوار گند کر دی ہے۔ مجھے وكنت أخال أنه قال ما قال صاحب منار کی نسبت نیک گمان تھا۔ اور میرا من مصلحة لا من إرادة الضير۔ خیال تھا کہ اس نے کسی مصلحت سے ایسا کہا نہ ولكن ظهر على بعد ذالك أنه ضرر دینے کے ارادے سے لیکن پیچھے پتا لگا ما كف اللسان كما هو من سير کہ اس نے زبان کو نہیں روکا جیسے کہ بزرگوں کی الكرام والطبائع السعيدة۔ بل عادت اور سعید طبیعتوں کا خاصہ ہوتا ہے بلکہ أصر على الازدراء في الجريدة اس نے اپنے اخبار میں تحقیر پر اصرار کیا۔ فأكل الحاسدون حصيدة لسانه پس حاسدوں نے اُس کے منہ کے اگلے كالعصيدة۔ وتلقفوا قوله ہوئے زہر کو لذیذ کھانے کی طرح کھایا اور وجددوا الخصومة بعد ما اُس کی بات کو قبول کیا اور ختم ہو جانے کے قطعوها كما هو من شيم بعد نئے سرے جھگڑا شروع کر دیا جیسے کہ