اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 202
الهدى و التبصرة لمن يرى ۲۰۲ اردو تر جمه وكذالك اقتضت عادة الله دستور کا تقاضا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے مقفل کیا ذي الجلال والعزة۔ولا يُفتحوه صرف انہی چابیوں سے کھلتا ہے اور امر الہی ما قفله الله الا بهذه المقاليد انہیں برگزیدوں کی وساطت سے نازل ہوتا ولا ينزل أمره الا بتوسط ہے۔آسمانی پانی کے بغیر نہ تو زمین کسی قابل هذه الصناديد۔وإن الأرض ہو سکتی ہے اور نہ ہی کچھ اُگا سکتی ہے۔وہ ماصلحت قط وما أنبتت آسمانی پانی اللہ کی وہ وحی ہے جو انبیاء کے ابر الا بماء من السماء والماء کی شکل میں نازل ہوتی ہے اور تیرے لئے وحى الله الذی ینزل فی یہ کافی ہے اگر تو عقل مندوں میں سے حلل سحب الأنبياء و ہے۔اور اگر تو حق کو قبول نہیں کرتا اور تجھے كفاك هذا إن كنت من اس کی تلاش نہیں ہے تو جا اور چمگادڑوں سے ذوى الدهاء۔و إن كنت روشنی حاصل کر اور خشک گھاس سے پھل تلاش لا تقبل الحق ولا تطلبہ کر ہم نے اپنے گزشتہ بیان میں تجھے اچھی فاطلب النور من الخفافيش طرح سے خبر دار کر دیا ہے۔اور اس بندے کی والثمرات من الحشيش طرف اشارہ کر دیا ہے جسے اللہ نے اس امر کے وقد نبهناك فيما مضى لئے چنا اور منتخب فرمایا۔اس کو وہی شخص دیکھ سکتا وأشرنا إلى عبد اختاره الله ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور دکھائے۔لهذا الأمر واصطفی۔ولا يراه پس تو اللہ سے دعا کر کہ وہ تیری آنکھ کو اُس آنکھ الا من هداه الله وأرى سے ہم آہنگی اور موانست پیدا کرنے کے لئے فادع الله ليفتح عينك لتوانس کھولے جو مخلوق کے لئے اشکبار ہے۔بلا شبہ یہ عينا جرت للورى۔فإن القوم قد قوم ضلالت کے بیابان میں ہلاکت کے اتنا اشرفوا على الهلاك في قریب پہنچ چکی تھی جیسے (حضرت ) اسماعیل بادية الضلالة۔كإسماعيل (علیہ السلام) اجنبی سرزمین میں پیاس کی