اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 14

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۴ اردو ترجمہ ويخدعون الجهال ورجعوا إلى میں دیکھتا ہوں کہ وہ پھر لاف گزاف مارنے شرهم و زادوا ضدا۔بما جاء لگے اور لڑائی کو تازہ کرنا چاہتے ہیں اور اب المنار شيئا إذًا۔وجاز عن القصد لڑائی چاہتے اور جاہلوں کو دھوکا دینا چاہتے جدا۔فأکبر کلمه حزب من ہیں۔پھر اپنے شر کی طرف لوٹ چلے ہیں اور الـعـمـيـن۔وأين جهابذة الكلام منار كى اس ناپاک بات اور کجروی کی وجہ سے كالسابقين۔بل يتبعون كل ما ضد میں بڑھ چلے ہیں۔چنانچہ کچھ اندھوں کو منار يسمعون من الحاسدین کی باتیں بھلی لگی ہیں اور پہلوں کی طرح کلام المفسدين۔وليس فيهم ذواق کے پرکھنے والے اور جاننے والے کہاں بلکہ یہ العبارات المهذبة۔ولا الأعناق لوگ تو جو کچھ حاسدوں مفسدوں سے سن پاتے للوصول إلى المراعی ہیں اس کے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ان میں اعلیٰ المستعذبة۔لا يعلمون لطف درجہ عبارتوں کے سمجھنے کا ذوق کہاں۔اور عمدہ الأساجيع المستملحة، ولا اور سرسبز مرغزاروں تک ان کی رسائی کہاں۔لطافة الكلم الموشحة۔يقولون یہ لوگ نمکین سجعوں کا لطف اور آراستہ کلموں کی نحن العلماء۔ولا يشعرون ما لطافت کو کیا جانیں۔منہ سے کہتے ہیں کہ ہم العلم وما الدهاء۔وما كان لى علماء ہیں مگر علم اور زیر کی ان کے نزدیک نہیں حاجة إلى ذكر هذه القصة۔آئی۔اور اصل میں مجھے اس قصہ کے بیان وإظهار هذه الغصّة۔لما لم يكن کرنے اور اپنے رنج کے اظہار کی کوئی مدير المنار وحده بدعا من ضرورت نہ تھی اس لئے کہ منار کا ایڈیٹر ہی تو المزدرين والمحقرين۔بل تعوّد کوئی اکیلا نیا بد گو نہیں بلکہ تمام دشمن ایسی ہی الـعــدا كـلـهـم بالتوهين۔ليصدوا تو ہین کے عادی ہو رہے ہیں اور ان کی غرض الناس عن سبیل المهتدین یہ ہے کہ لوگوں کو ہدایت یافتوں کی راہ سے ويلحقوهم بالمعتدين۔وترى روک کر حد سے نکل جانے والوں میں شامل