اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 170

الهدى و التبصرة لمن يرى اردو ترجمہ فضل لسلسة أولى وليتطابقا جوڑے کو ایک دوسرے سے ہوتی ہے۔پس كتـطـابـق النعلين۔فبعث نبینا اس نے ہمارے نبی اور ہمارے آقا حضرت محمد وسيـدنـا مـحـمـد اصلى الله عليه صلى اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور آپ وسلم و جعله مثیل موسی کو مثیل موسیٰ “ بنایا اور آپ سے کلام کیا اور آپ وكلمه وعلمه ما علم۔ثم لما کو جو تعلیم دینی تھی دی۔پھر جب نبی کریم کے انقضت مدة عـلـى هـجرة هذا وصال پر اسی قدر مدت گزری جتنی ( حضرت ) النبي الكريم كمثل مدة كانت عيسى اور موسیٰ کلیم اللہ کے درمیان مدت تھی بين عيسى والكليم۔وافترقت چودہ سو سال ) اور امت کئی فرقوں میں بٹ الأمة إلى فِرَق وصبت علی گئی اور اسلام پر مصائب و آفات کی اُفتاد آن الإسلام مصائب وبؤسى۔كما پڑی جس طرح موسیٰ کے بعد عیسی (علیہ افترقت اليهود وضلوا فی زمن السلام) کے زمانے تک یہود فرقوں میں بٹ عیسی بعد موسی۔بعث الله چکے تھے اور گمراہ ہو گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس مثيل ابن مريم في هذا الزمان زمانے میں مثیل ابن مریم کو مبعوث فرمایا تاکہ ليتطابق السلسلتان الأول دونوں سلسلوں میں مطابقت پیدا ہو جائے۔كالأوّل والآخـر کالآخر فی تا کہ ہر صفت اور ہر رنگ میں اوّل اوّل کی جميع الصفات والألوان۔فكان طرح اور آخر ، آخر کی طرح ہو جائے۔اس هذا مقام الشكر لا مقام الانكار لئے یہ مقام شکر تھا نہ کہ انکار اور ناشکری کا والكفران۔وكان من الواجب أن مقام۔اور یہ لازم تھا کہ مسلمان ایک پیاسے کی يتلقى المسلمون هذا النبأ بإقبال طرح اس خوشخبری کا عظیم الشان استقبال کرتے عظيم كالعطشان۔ويحسبوه من اور اسے خدائے رحمان کا بہت بڑا احسان أجل منن الرحمن۔ولكن القوم جانتے۔لیکن قوم نے لوگوں کی پُر جوش باتوں کی اتبعوا أقوال الناس و كفروا تو اتباع کی اور قرآن کریم کا انکار کر دیا اور جس