اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 137

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۳۷ اردو ترجمہ بل أعينهم في غطاء عند رؤية کے جمال کو دیکھ کر ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے اور جمال الملة۔وقلوبهم فى عيافة اس جلوہ آرائی کے وقت اُن کے دلوں میں کراہت پیدا عند هذه الجلوة۔لایرون ہو جاتی ہے۔وہ جھوٹ کو عار نہیں سمجھتے۔اور رائی کا پہاڑ الكذب سُبة۔ويجعلون لبنة قبة بناتے ہیں اور انہیں ہرگز بے لگام نہیں چھوڑا جائے ولن يتركوا سُدًى۔وإن مع اليوم گا۔کیونکہ ہر آج کی ایک گل بھی ہے۔میں دیکھ رہا ہوں غدا۔وأرى أن أبخرة الكبر کہ کبر کے بخارات نے ان کی سانسیں بند کر رکھی ہیں سدت أنفاسهم۔وهدمت اور ان کی بنیاد کو منہدم کر دیا ہے۔تم اُن میں سے اکثر کو أساسهم۔وترى أكثر هم ایسی سیپی پاؤ گے جس میں کوئی موتی نہیں اور ایسی بالی پاؤ کصدف بلا دُرّ۔وكسُنبلة من گے جس میں کوئی دانہ نہیں۔آراء میں ادنیٰ سے اختلاف غير بُر۔يقومون لتحقير پر وہ شرفاء کی تحقیر کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔تم الشرفاء لأدنى مخالفة في اُن میں ایسے لوگ پاؤ گے جنہوں نے جفاء کو اپنا وطیرہ بنا الآراء۔وتجد فيهم من اتخذ سيرته الجفاء۔وإلى من أحسن إليه أساء۔وإذا رأى في مصيبة لیا ہے۔جو اُن سے حسن سلوک کرے وہ اس سے بُرا سلوک کرتے ہیں۔جب وہ کسی ہمسایہ کو مصیبت میں دیکھتے ہیں تو اسے اذیت دیتے اور اس پر جور و جفا کرتے الجار۔فآذى وجفا وجار۔وما ہیں اور رحم نہیں کرتے اور نہ ہی حق ہمسائیگی ادا کرتے رحم وما أجار۔فكيف ينصر ہیں۔ایسی خصلتوں پر راضی رہنے والے لوگ دین کی الدین قوم رضوا بهذه الخصائل۔وكيف يُتوقع فيهم خير بتلك کیسے مدد کریں گے۔ان کمینی صفات کے ہوتے الرزائل؟ الا الذين صلحـوا ہوئے، ان سے کسی خیر کی توقع کیسے کی جا سکتی۔ومالوا إلى الصالحات۔فيُرجی سوائے ان لوگوں کے جو نیک ہو گئے اور نیکیوں کی أن يأتي عليهـم يـوم يجعلهم من طرف مائل ہوئے ، تو امید کی جاسکتی ہے کہ ان پر ایسا حفدة الدين۔ومن الناصرین وقت ضرور آئے گا جو انہیں دین کے حامی اور صدق و ۹۵ بالصدق والثبات۔ثبات کے ساتھ دین کی مدد کرنے والے بنا دے گا۔