الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 67 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 67

YA کی پیش کردہ یہ مثالیں حیات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں ان کے لئے سہارا نہیں بن سکتیں پس ان کا اس وقت تک زندہ ہونا جس طرح قرآن مجید کی دیگر آپ کے خلاف ہے دیسے ہی ان کا زندہ رہنا اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد مبعوث ہونا آیت خاتم النبیین کے صریح خلاف ہے خواہ خاتم النبیین کے معنی علی الاطلاق آخر النبین لئے جائیں۔خواہ بقول مفتی صاحب منصب نبوت پالنے میں آخر البس تین اور خواہ امام علی القاری غیره علماء کے نقطہ نگاہ کے مطابق تشریعی اور مستقل انبیاء میں سے آخری بنی سمجھے جائیں۔قرآن مجید نے تو سورہ آل عمران کی آیت دما محمد إِلَّا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ تَاتَ او قتل القلم على أعقاب كم میں مات فیصلہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام رسول اس جہان سے گذر چکے ہیں۔طبعی موت سے یا مقتول ہو کہ جب قرینہ انسان مات أن قيد التحقیق سے معلوم ہوتا ہے حضرت علی علیہ السلام حب آیت مَا قَتَلُوه يقينا بذریعہ قتل اس جہان سے نہیں گری ہے۔لہذا ان کا طبعی موت سے گزرنا متعین ہو گیا۔اور آیت بَل رفعه الله السہ میں ان کی باعزت موت طبعی کے علاوہ ان کے لئے بلند مدارج پانا بھی مذکور ہے کیونکہ رفع الی الله على وجه الكمال بعد از وفات مدارج عالیہ پالنے سے حاصل ہوتا ہے۔یہ ہے وہ رانہ جس سے ظاہر ہے کہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے