الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 68
14 ظہور سے پہلے کا کوئی نبی زندہ نہیں۔لندا تحضرت عیسی علیہ السلام کا آ غضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا ان امثلہ کے مخالف ہے۔ماسوا اس کے خدا تعالے کی سنت جاریہ یہ ہے کہ وہ تشریعی نبی بھیجتا ہی اس وقت رہا ہے۔جبکہ پہلا تشریعی نبی وفات پا چکا ہوا ہو۔چونکہ سنتی صاحب کے نزدیک حضرت جیسے علیہ السلام تشریعی نبی تھے۔اس لئے آغضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے ان کا وفات پا جانا یقینی امر تھا۔آیت قرآنیہ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَعَنِى كُنتَ أنتَ الرقيب عَلَيْم اسی امر پر شاہد ناطق ہے کہ حضرت عیسی علیہ اسلام اپنی قوم کے بگڑنے سے پہلے وفات پاچکے ہیں۔اور تا قیامت قوم کے بگاڑ کے متعلق وہ عینی شاہے نہیں ہوں گے۔لہذا نہ وہ زندہ ہیں نہ انہوں نے قیامت سے پہلے اپنی قوم میں آتا ہے۔ان کی قوم چونکہ نزول قرآن سے پہلے گذر چکی اس لئے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زبانی ان کے دوبارہ مبعوث ہونے میں صریح ارک ہے۔اس راز کی وجہ سے مفتی صاحب کو ہمارے سامنے اپنی یہ مثالیں پیش کرنے کا کوئی حق نہیں۔علاوہ ازیں یہ سب مثالیں آخر المجالسین وغیرہ جو قبل ازیں مذکور میں اگر خاتم الجالسین وغیرہ کا ترجمہ ہوں تو پھر یہ کہ خاتم کا مجازی معنوں میں ہوگا۔کیونکہ آخر کو پہچنا خاتم کے مجازی معنی ہیں حقیقی مصدری معنی خاتم کے موثر ذریعہ ہیں۔ہم آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو چونکہ ان حقیقی معنوں