الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 55
04 نا مکن دکھانا چاہتے ہیں لہذا استغراق حقیقی کے پردہ ہیں وہ در اصل اپنے اس مخصوص عقیدہ کو سہارا دینا چاہتے ہیں۔ملکہ یہ سمارا بہت کمزور ہے کیونکر بنی کریم سلئے اللہ علیہ وسلم کی مخصوص فضیلت تو انبیاء پر آپ کا خاتم بالذات ہوتا ہے جس میں الف لامر استغراق حقیقی کا پایا جانا ظاہر ہے مگر چونکہ ان معنے سے اتنی بیٹی کے پیدا ہونے کا جواز کتنا تھا۔اور یہ مفتی صاحب کو منظور نہیں اس لئے وہ اپنے مزعومہ معنوں کے ساتھ الف لامر استغراق حقیقی کا ثابت کرنے کے درپے ہیں۔مگر وہ دوسرے اقتباس میں بتاتے صرف یہیں ہیں کہ وہ بنی کریم پہلے اللہ علیہ وسلم کی مخصوص فصیلات کی ہ خاطر الف لام استغراق حقیقی کا ماننے کے لئے مجبو رہیں حالا کے مخصوص فضیلت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اس عالم میں نبوت حاقہ سے تقصف ہونا نہیں بلکہ اصل فضیلت خاتم بالذات ہونے میں ہے۔ہاں اس عالم میں آپ نبوت تشریعیہ خاصہ کا لحد نامہ مستقل إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لانے کی فضیلت میں بھی تمام انبیاء سے امتیاز رکھتے ہیں۔خواہ وہ انکیسا سابقین ہوں یا لا حقین - جب یہ مخصوص فضیلت آپ کو حاصل ہے تو خاتم بالذات ہونا آپ کی اخص فضیلت ہوگا۔پس شریعت تامہ کام منتقد إلى يوم القيامة لانا بھی آپ کی ایک ایسی فضیلت ہے جو تمام انبیاء پر آپ کی امتیازی شان کو ظاہر کرتی ہے۔اس لئے تمام انبیا کے سابقین کے بالمقابل آپ استغراق عرفی یا محمد خارجی کے ساتھ بھی ایک محصور من فضیلت اور امتیاز رکھتے ہیں۔اور مفتی صاحب والا اشکال اور خطرہ پیدا نہیں ہوتا