الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 56
که استغراق عرفی یا عمد خانگی کی صورت میں آدم کے سوا تمام انبیاء سے ہو خاتم النبيين باستغراق عرفی یا حمد خارجی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیان قائم نہیں رہتا۔کیونکہ الف لام باستغراق حقیقی لئے بغیر بھی ان با بنیاد پر آپ کا اختیار شریعت نامرہ کا ماہ مستقل الى يوم القيامة لانے کی وجہ سے قائم رہتا ہے اور کلام معمل اور بے معنی نہیں ہو جاتا۔اور چونکہ آپ تشریعیت کامل تامہ مستقلہ الی یوم القیامتہ لانے والے نبی ہیں اس لئے بعد والے انبیاء سے بھی آپ کا امتیاز قائم رہے گا۔کیونکہ وہ غیر تشریعی اتنی نبی ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بلحاظ شریعیت تا تمہ کا استقلہ الی یوم القیامہ لانے کے ان کے لئے آخری سندہ ہوگا جیسا کہ سپریم کورٹ اپنی اتحت عدالتوں کے لئے آخری سند کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ماتحت عدالتیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تابع ہوتی ہیں۔وہ پریم کورٹ کے کسی فیصلہ کو منسوخ نہیں کر سکتیں خواہ وہ ہائیکورٹ کی عدالت میں ہی ہوں۔اب دیکھ لیجئے آنحضرت سے لے اللہ علیہ وسلم آخر النبيين بلحاظ شریعت تامہ کا مسلمہ مستقلہ الی یوم القیا منہ نہانے کے انبیاء سابقین سے بھی آخری ہیں اور بعد والوں کے لئے بھی آخری سند ہونے کے لحاظ سے آخری تشریعی نہیں اس طرح آخری تشریعی نبی کے معنوں کے ساتھ استغراق حقیقی بھی ثابت ہوجاتا ہے اور اقتی بھی کی آمد کا جواز بھی یہ بنتا ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب تحریر فرماتے ہیں :۔خانم مراتب کے اوپر کوئی اور محمدہ یا مرتبہ ہوتا ہی نہیں جو ہوا ہے