الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 259
۲۶۰ ایک غلطی کا ازالہ میں آپ صاف فرما چکے ہیں کہ آپ کا نہ مستقل طور پر کسی شریعت لانے کا دعوئی ہے اور نہ شریعت جدیدہ جانے کا دھونی ہے میں مفتی صاحب کو چیلینج کر چکا ہوں کہ وہ سلات سے لے کر ۲۶ مئی انتشار تک جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا دن ہے آپ کی کوئی تحریر اس مضمون کی پیش کریں کہ آپ کو شریعیت جدیدہ یا مستقل شریعیت کانے کا دعوی ہے تو میں انہیں ایک ہزار روپیہ نقد انعام دوں گا اور اپنی یہ کتاب جنا دوں گا، اور اپنی تحقیق کو اس طرح غلط قرار دید و هنگا۔مگر میرا دعوی ہے کہ مفتی صاحب نشانہ کی کتاب اربعین سے بعد کی کسی کتاب میں ہرگز یہ مضمون نہیں دکھا سکتے۔رہا اربعین کا حوالہ سواس کے متعلق حضرت مسیح موعودستشانہ کی اسی کتاب میں خود وضاحت فرما چکے ہیں کہ آپ پر او امر و نواہی پیشتمل العامات تو تیئیس سال سے نازل ہو رہے ہیں مگر یہ سب المابات بطور تجدید دین اور بیان شریعیت کے ہیں۔اور آپ در اصل قرآن مجید کو رہبانی کتابوں کی خاتم یقین کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے ہیں۔اپنی آخری بڑی کتاب چشمه معرفت میں آپ فرماتے ہیں :۔اہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے۔(حاشیہ چشمہ معرفت ص۳۲۲ )