الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 260
پھر فرماتے ہیں :- خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریعت کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمد بی شریعیت کے بر خلاف چلتا ہے اور اپنی شرعیت چلانا چاہتا ہے۔چشمہ معرفت ۳۲۳۵ (۳۲۵) اور اربعین کے بعد کے رسالہ الوصیة میں تحریر فرماتے ہیں :۔یہ خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آخریت صلے اللہ علیہ وسلم کے بالکل مسدود ہے۔اور قرآن مجید کے بعد کوئی اور کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے جبکہ اس کا عمل قیامت تک ہے تم الوصیت صلا) پھر اپنے آخری خط مینی اخبار عام ۲۳ ملتی ۱۹ع کو آپ کی وفات سے تین ۱ دن پہلے شائع ہوا تحریر فرماتے ہیں :۔یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا وخونی کرتا ہوں میں سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا بنی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبیلہ بناتا ہوں اور شریعیت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور مشابہت سے باہر جاتا ہوں۔یہ الزام صحیح نہیں