الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 153 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 153

۱۵۴ ساق مفتی صاحب کے نزدیک ستاروں جیسی نبوت جو پہلے انبیاء کو حاصل تھی۔رحمت کا پھاٹک کھل جانے کی وجہ سے اس کی ضرورت نہیں رہی مگر مفتح صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ رحمت کے جس بڑے پھا کے کھل جانے کا ذکر کیا ہے۔وہ پھاٹک تو از روئے قرآن مجید آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے واسطہ سے کہا لات روحانیہ ملنے کا ہی پھاٹک ہے۔جن کے چار مدارج حسب آیت مَنْ تُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ تاد المالك مع الذِينَ انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّنَ لِيَاكَ مَعَ والصديقين والشُّهَدَاءِ وَ الصَّالِحِينَ (سورة الناع) نبوت۔صدیقیت - شہادت اور صالحیت کے مدارج ہیں۔اور آیت میں مع کا لفظ اس بات کے لئے اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی امت میں آپ کے امتی کو جامعیت کے ساتھ تمام پہلے انبیاء کے مکافات تمام پہلے صدیقوں کے کمالات اور تمام پہلے شہداء کے کمالات اور تمام پہلے گزرے ہوئے صالحین کے کمالات حاصل ہو سکتے ہیں۔یہ پھاٹک تو واقعی کھلا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جامع جمیع کمالات انبیاء ہیں تو آپ کے فیض رحمۃ للعالمین کا اثر بھی جامعیت کے رنگ میں ظاہر ہونا چاہیئے۔جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی رسالت بمنزلہ آفتاب عالمتاب ہے۔تو اس کی ضیا گستری اور تجلیات کے یہ چار نمونے ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔آفتاب عالمتاب رات کی تاریخی کے زمانہ میں مستیاروں کے ذریعہ اپنی تھیلی کو ظا ہر کرتا ہے۔اسی طرح الحصر