الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 143
۱۴۴ سے پہلے کے تمام انبیاء وفات پاچکے ہیں۔لہذا آپ بھی غیر معمولی زندگی نہیں پاسکتے تھے۔بلکہ واقعی وفات پاچکے ہیں۔اس وقت حضرت ابو یکی ریعنی اللہ عنہ کو خطبہ دینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات پانے سے انکار کیا اور تلوار نکال کر کہا کہ میں نے کہا کہ آپ وفات پاگئے ہیں اسے قتل کر دوں گا اور کہا کہ انمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا رُفِعَ عَلَى ابن مريم رمج الكرامه ملك ) آپ نے اس وقت صرف آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں جیسے کہ حضرت علیمی علیہ السلام اٹھائے گئے تھے۔گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک کو دیکھ کر یہ خیال کیا کہ اس وقت آپ زندہ ہیں مرفوع الی السماء ہونے کی حالت میں ہیں۔جیسے ان کے نزدیک صلیب سے انا را جانے کے وقت حضرت عیسی علیہ السلام پر جو بیہوشی کی حالت طاری بنتی۔وہ گویا اس وقت حضرت عیسے علیہ اسلام کے مرفوع الی السماء ہونے کی حالت تھی چنانچہ حضرت مگر یعنی اللہ عنہ کا خیال تھا جس طرح اس زمین پر موجود رہتے ہوئے مرفوع الی السماء ہونے کی حالت کے بعد جو کہ ایک روحانی کینیت متی حضرت کیلئے علیہ السلام زندہ پائے گئے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ ہیں اور مرفوع الی السماء ہونے کی حالت میں ہیں احمد البلد اُٹھ کھڑے ہوں گے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کی غلطی کو دور کرنے کے لئے یہ خطبہ دیا اور کہا کہ جو شخص محمد مسلے اللہ علیہ وسلم کی زیارت