الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 142
۱۴۳ یہ واضح رہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عیسے علیہ السلام کی وفات کی قائل تھیں کیونکہ وہ حدیث ان عیسی ابن مريم عاش مائة و مشرين سنة رکہ لینے ابن مریم ایک سوئیس برس زندہ رہے) کے مضمون سے واقف تھیں اور اس کی وہ خود روایت بھی کرتی ہیں۔پس موعود میلے سے مراد جس کے نزول کے پیش نظر انہوں نے لانبی بعد کا کے ان عام معنوں کو کہ آپ کے بعد کوئی نہیں ہوگا۔خاتم النبین سے منافی جانا اور لانبی بعدہ کہنے سے غلط فہمی سے بچانے کے لئے امت کو منع فرما دیا۔امت محمدیہ میں سے مقام نبوت پر فائز ہو کر مثیل مسیح بننے والا فرد ہی مراد ہو سکتا ہے ن اصالتا حضرت عیسی علیہ السلام کا آنا جو ان کے نزدیک صرف ایک سو میں برکس زندہ رہے۔اس جگر یہ بات واضح رہے کہ ایسی روایات وفات مسیح پر اجماع صحابہ جن سے کسی بھائی کے حیات مسیح علیہ اسلام جن سے کے قائل ہونے کا شبہ ہوتا ہو علی العموم ایسی روایت ہی ہو سکتی ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات پانے سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ورنہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت ابوبکر رضی اللہ علیہ وسلم کے اپنے خطبہ میں آیت دعا محمد إلا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ پیش کرنے پر اس بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم