الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 128
۱۲۹ چاہئے۔پیشنگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعیت میں آپ کے بعد مبعوث ہونا کی ما وليكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَيب کی آمد کا جواز من اللين والعديد يقين والشهداء ـا مِّنَ والصلعین سے ثابت ہے کہ نزول قرآن مجید کے بعد نبیوں اللہ بقول شہر راء اور صالحین میں شامل ہونے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت شرط ہے۔پس یہ آیت آئندہ زمانہ کے لحاظ سے آنحضرت سلے اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف خاتم النبین بالذات ثابت کرتی ہے بلکہ خاتم المندر فین بالذات، خاتم الشهداء بالذات اور خاتم السائحين بالذات بھی ثابت کرتی ہے ابھی یعنی میں مولانا محمد قاسم صاحب نے آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم کو خاتم کا ملین بھی قرار دیا ہے۔مراد یہ ہے کہ آئندہ سب مختلف مداری کے روحانی کمال رکھنے والے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے پیدا ہوں گے۔آپ خاتم الکاملین ان معنوں میں قرار نہیں دیئے گئے کہ آپ کے بعد روحانی کمالات رکھنے والے لوگ پیدا نہیں ہوں گے۔مفتی محمد شفیع صاحب نے اس آیت کو بھی خاتم النہ تین کے معنی بجھانے کے لئے تفسیر القرآن بالقرآن کے طور پر اپنی کتاب ختم نبوت کا مال کے قاب کچھ پر آیت ہونے کے طور پر درج کیا ہے۔ہمارے نزدیک بھی یہ آیت آئند زنم کے لئے خاتم النبین کی تفسیر ہے اور خاتم کے معنے لغت عربی کے لحاظ سے فیر کا ہونا مولوی محمد شفیع صاحب کو بھی سلم ہے گو وہ آپ کو نبیوں کو مینہ کرتے