الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 299 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 299

۲۹۹ بھی مجبور ہوئے کہ احادیث نبویہ کی روشنی میں ان لوگوں کا فنوں اپنی لوگوں پر الٹا دیں۔لیکن پھر بھی آپ نے تشدد کی راہ اختیار نہیں کی۔اور کسی مسلمانوں کو کا فرقم اول قرار نہیں دیا۔کوئی شخص آپ کے شہارات اور کتابوں میں سے نہیں دکھا سکتا۔کہ آپ نے مسلمانوں کی تکفیر میں ابتداء کی۔پس وقت تکفیر خود علماء کی پیدا کردہ ہے۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنا فتونی واپس لے لیں۔کیونکہ ان کا فتوی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور فقہ حنفیہ کے خلاف ہے۔حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ علماء کے فتوئی کے ذکر میں تحریر فرماتے ہیں۔در اصل یہ بیچارے ہمیشہ اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی سبب ایسا پیدا ہو جاوے جس سے میری ذلت و اہانت ہو مگر اپنی قسمتی سے آخر نا مراد ہی رہتے ہیں۔پہلے ان لوگوں نے میرے پر کفر کا فتونی تیار کیا اور قریبا دو سو مولوی نے اس پر خبریں لگائیں اور ہمیں کافر ٹھرایا گیا۔اور ان فتووں میں بیانتاک تشدد کیا گیا کہ بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ یہود و نصاری سے بھی بدتر ہیں۔اور عام طور پر یہ بھی فتوے دیتے کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرنا چاہیئے اور ان لوگوں کے ساتھ سلام اور مصافحہ نہیں کرنا چاہیئے۔ان کے پیچھے نماز درست نہیں۔کافر جو ہوئے ، بلکہ چاہیئے کہ یہ لوگ مساجد میں داخل نہ ہونے پادیں۔کیونکہ کافر ہیں۔مسجدیں ان سے