الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 205 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 205

۲۰۶ عنوان کے ماتحت مسیح موعود کے خط سے ار ا گست ماہ کی پیش کی ہے۔پھر اس دور کے ذکر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ریویو پر مباحثہ ازالہ اوہام جامہ البشری ایام الصلح - کتاب البریہ - آئینہ کمالات اسلام وغیرہ کی بعض عبارات ختم نبوت کے مضمون کے متعلق پیش کی ہیں۔اور پھر دوسرا اور راہ سے شروع قرار دیا ہے۔پہلے دور کے متعلق مفتی حنات نے لکھا ہے:۔پیکا اور وہ تھا جب مرنا ما احب سب مسلمانوں کی طرح مسلمان تھے اور امت کے اجماعی عقائد و نظریات کو بلا کسی جدید تا دیل و تحریف کے تسلیم کرتے تھے اور ایک میلے اسلام کی حیثیت سے کچھ چیزیں لکھتے تھے۔دوسرا دور وہ تھا جس میں انہوں نے کچھ دھوے شروع کئے اور ان میں تدر یھی سے کام لیا۔میرد ہوئے۔مہدی ہوئے یہانتک کہ مسیح موعود ہے کہ ختم نبوت کامل سلام مفتی صاحب کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مفتی صاحب کے مزعومہ دور کے زمانہ میں جو اللہ سے شروع ہو کر حصہ تک رہا۔حضرت بانی سلسلہ احمد یہ علیہ السلام کا اس دور میں نہ مجدد کا دعوی تھا نہ تہدی کا اور نہ مسیح موجود کا وہ صرف ایک مبلغ اسلام کی حیثیت سے کچھ چیزیں لکھتے تھے اور مسلمانوں کی طرح مسلمان تھے۔اور امت کے اجماعی عقائد اور نظریات بنا کسی تاویل در تحریف کے تسلیم کرتے تھے گویا مجد د معدی اور میں موجود کے دعوے آپ نے اور مسیح تدریجا دوسرے دور میں کئے ہیں۔