الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 206
ہم بڑے وثوق سے جناب مفتی صاحب کے اس بیان کو غلط قرار دیتے ہیں که مجدد- مهدی اور مسیح موعود کا دعوی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے شملہ کے بعد مفتی صاحب کے مزعومہ دوسرے دور میں کیا۔یہ تمام دعاوی حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ کے شاہ سے لے کر 13 ماہ تک موجود تھے اور اپنی کتب میں موجود تھے جن کی عبارتیں مفتی صاحب نے پہلے دور کی مزعومہ کتب سے پیش کی ہیں۔مفتی صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ریویو یہ مباحثہ اللہ سے بعد کی کتاب ہے اس لئے انہوں نے اس کا حوالہ اپنے لئے نے کا حوالہ مزعومہ دور اقوال کی کتب میں دے دیا۔جو دور ان کے نزدیک اللہ سے شاد تک ہے یانہ ہو یہ مباحثہ کے بعد دوسری کتاب کا نام جناب مفتی صاحب نے ازالہ اونام درج کیا ہے۔اس کتاب میں حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ مسیح موجود ہونے کا مندرجہ ذیل الفاظ میں موجود ہے اور مجد ہونے کا دھوٹی بھی موجود ہے اور مہدی ہونے کا دعویٰ بھی موجود ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔بعض حدیثوں میں جو استعامات سے پر ہیں مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیش گوئی بیان کیا گیا ہے سو ان حدیثیوں کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا ہی دوبارہ دنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں بلکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے تین سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جو مسیح ابن مریم کے زمانہ کے ہمرنگ ہو گا۔ایک شخص اصلاح خلق کے لئے دنیا