الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 131
۱۳ سینی مَا كَانَ اللهُ لِيَدَى الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَّا انتم عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيرُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِن يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاء نَامِنُوا بِاللَّهِ وَ رسله (آل عمران : ۱۷۹) ا ایسا نہیں کہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جین پر تم ہو یہانتک کہ خبیث و طیب میں تمیز کری سے اور خدا ایسا نہیں کہ تمھیں خالص غیب پر براہ راست اطلاع دے لیکن اس غرض کے لئے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے گا۔برگزیدہ کرتا رہے گا۔پس تم الشرادر اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔اس آیت میں چھوٹی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ مسلمان اس حالت پر رہنے والے نہ تھے جس حالت پر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشت میں تھے اور خدا کے مدنظر تھا کہ وہ آئندہ خبیعت و طیب میں امتیاز کرے گا۔دوسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ آئندہ خدا کے خالص غیب پر اطلاع مرت رسولوں کو دی جائے گی اور تمہارا ان پیمانیان لانا ضروری ہے۔تیسری بات اس آیت سے یہ علوم ہوتی ہے کہ آئندہ ایسا رسول ہی آسکتا ہے جس پر صرف امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں۔وہ کوئی نئی شریعیت لانے والا نہ ہو۔