الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 132
۱۳۳ پس جب ان رسولوں پرامیان مضروری ہوا تو ان کی اطاعت فرض ہوگئی اور مفتی صاحب کی تفسیر غلط قرار پائی۔بلکہ اس آیت کی رو سے اسی دنیا ہیں اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نبیوں، صدیقوں شہیدوں اور صالحین میں شامل ہونا ضروری قرار پایا۔اگر اس آیت کے صرف یہ معنی کئے جائیں کہ آئندہ قیامت کو ہی یہ دور جاہت ملیں گے نہ دنیا ہیں۔تو آیت کا یہ معصوم بن جائے گا کہ اس دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نہ کوئی بنی بن سکتا ہے اور نہ صدیق۔شہید اور صالح کا درجہ پاسکتا ہے۔یہ معنی سرا سر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان کے خلاف ہیں۔کیونکہ حسب آیت اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِي دوايات هم الصديقون والقمد اور سورۃ الحدید : ۲۰) صدیق اور تمهید کا مرتبہ تو پہلے نبیوں پر ایمان لانے سے بھی لوگوں کو بتا رہا ہے اور اسی دنیا میں ملتا رہا ہے۔لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان کا تصادف ہے کہ اسی دنیا میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں سدیق شہید اور صالح کے درجہ کے علاوہ نبوت کا مقام بھی آپ کے انتی کو مل سکے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بوت و رسات بالذات ہے اور امنیوں کو نبوت۔صدیقیت و شہادت اور صالحیت کے مدارج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے یعنی آپ کی عقلیت ہیں ملتے ہیں۔حضرت باقی مسلسل احمد رتی نے فرمایا ہے:۔