الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 126
عِنْدَ اللهِ لَخَاتَمُ النَّبِينَ وَانِ أَدَم لَنْجِدِل فِي طِينِهِ الى معنی کی مٹوید ہے۔(ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر بر حاشیه فتح البیان جلده ملك بحوالہ مسند احمد بن صفیق) الی سکیم میں خدا تعالے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو احادیث نبویہ کے مطابق اس وقت نبی اور خاتم النبین قرار دیا۔جب آدم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔پس الی سکیم میں آپ نے صرف بطو ر نہیں ہیں علمی وجود نہیں پا یا ملکہ آپ کی نبوت وصف خاتم النبین کی جامعہ قرار دے دی گئی تھی۔خاتم النبین ہی کا یہ علمی وجود و تمام انبیاء کے ظہور میں ابوالا انبیاء ہو کہ بطور سبب وعلت مؤثر رہا ہے الا میرا جناب مفتی صاحب نے اپنی کتاب ختم نبوت مفتی حنا پر اقبالی ڈگری استامل کے مال پر ابن کثیر رشته فتح البان 1990 کے حوالہ سے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوعا یہ حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آنا اول الانبياء خلقا وأخرهم بثاً اس کا ترجمہ مفتی صاحب کے یہ لکھا ہے۔میں پیدائش میں تمام انبیاء علیہ السلام سے پہلے تھا اور بہشت میں سب سے آخر میں نے پھر اس پر حاشیہ میں لکھا ہے کہ :- اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ عالم ارواح میں سب سے پہلے منصب نبوت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو ملا جس کے لحاظ سے آپ جس طرح خاتم النبیین ہیں اسی طرح اول النبتين بھی ہیں۔