الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 97 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 97

ولو عاش لكان صديقا نيا (ابن ماجہ کتاب الجنائز) ترجمہ : حضرت ابن عباس سے روائت ہے کہ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا فرزند ابراہیم وفات پا گیا تو آنحضرت مصلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں اس کے لئے ایک دودھ پلانے والی مقرر ہے اور اگر وہ زندہ رہتا تو ضرور صدیق بنی ہوتا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ صاحبزادہ ابراہیم کے بالفصل بھی بنایا جائے میں آیت خاتم النبیین روک نہ تھی۔بلکہ ان کی وفات روگ ہوتی ہے۔کیونکہ آیت خاتم النبیین شستہ میں نازل ہوئی تھی اور صاحبزادہ ابراہیم نے شد خاتم میں وفات پائی۔امام علی القاری جو فقہ حنفیہ کے جلیل القدر امام اور محدث اور ہیں۔اس حدیث کے خلاف علامہ عبد البر اور امام نووسی کے اس خیال کو گہ یہ حدیث ضعیعت ہے، یہ کہ کر رد کرتے ہیں :۔له طُرُق ثلاث يُقَوَى بَعْضَهَا بِبَعْضٍ در موضوعا كبير شد کہ یہ حدیث تین سندوں سے ثابت ہے جو آپس میں ایک دوسری کو قوت دیتی ہیں۔اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ ويُقَدِيْهِ حَدِيثُ لَوْ كَانَ مُوسى حيا لما وسعة الا اتباعی - (ایسا مت کہ یہ حدیث بھی اس حدیث کو قوت دے رہی ہے۔علامہ شوکانی نے بھی لووتی کے خیال کو رد کرتے ہوئے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے لکھا ہے : هو عيب من النووي مَعَ وَرُوحِهِ عَنْ ثَلاثَةٍ