الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 87
AA حديث لا نبی بعدی کی موجودگی میں ثابت کر سکیں۔پس انقطاع نبوت پر مشتمل تمام احادیث کا مفاد علماء محققین نے یہی سمجھیا ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری تشریعی نبی ہونا بیان ہوا ہے اور ان میں مجر دینی کا انقطاع بیان کرنا مقصود نہیں۔قصر نموت والی حدی چنانچہ قصی صورت کے تنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یمت ذریعہ بطور آخری اینٹ کے نکیل کے ذکر پیشامل میں بھی ہے از حدیث میں بھی نبوت سے مراد تشریعی نبوت ہے اور تکمیل قصر سے مراد شریعیت کا قصر ہے جس کی تکمیل شریعت محمدیہ نامہ کا ملا مستقلہ الی یوم القیامہ کے زریعہ ہوئی یا جو امام ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کی تشریح ائے میں تحریر فرماتے ہیں:۔المراد هنا النظرُ إِلَى الْأَعْمَلِ بِالنِّسبة إلى الشريعة المعدية مَعْ مَا مَضَى مِنَ الشرائع انگا ملتو رفتح الباری جلد منت یعنی مراد تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ شریعت محمدیہ پہلے گزری ہوئی کامل ترمینوں کے مقابلہ میں اکمل سمجھی جائے۔- حديث إن الرسالة والنبوة قد انقطعت فَلا رَسُول تبدي ولا نیت کا مفہوم بھی نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے اور کوئی تشریعی نبی آپ کے بعد نہیں آئے گا اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ کوئی غیر تشریعی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔چنا نچہ