الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 84
ΑΔ بھی ہمارے موقف کے خلاف نہیں البتہ یہ مفتی صاحب کے موقف کے قلات ہے۔کیونکہ انہوں نے اس عالم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وضعیت بوت سے سب نبیوں سے آخر میں منصف قرار دیا ہے۔اور رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخرهم بخشا کے الفاظ کی موجودگی میں پھر وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کے قائل ہیں جو مستقل بنی تھے۔اس طرح تو آخر الانبیاء بعثا حضرت عیسی علیہ السلام بن جاتے ہیں۔لیکن ہمارے مسلک کے مطابق امت میں سے خلقی طور پر مقام نبوت پانے والا چونکہ بجا اقلیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر نہیں ہوتا۔اس لئے اس کا بہت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ہی بحث ثانی قرار پاتا ہے اور اگر وہ مسیح موعود کبھی ہو تو حضرت کیلئے علیہ سلام کے کمالات بھی وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عقلیت میں ہی حاصل کرتا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عقلیت میں وہ امتی مسیح بنی اللہ کے کمالات حاصل کر سکے اور علی علیہ السلام کا بروز ہو کر نزول عیسی علیہ السلام کی پیشگوئی کا مصداق ہو جاتا ہے۔نزول کا لفظ حدیثہ میں اکراٹا استعمال ہوا ہے جیسے اللہ تعالے نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے۔قد انزل الله الشكم ذِكْرًا رَ ذكرا ر سو لا يتلوا عَلَيْكُمْ آيَاتِ الله بنت کہ خدا نے تم میں ذکر رسول یعینی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نازل کیا ہے جو تم پراللہ کی واضح آیات پڑھتا ہے۔(سورۃ الطلاق آیت (۱۲)