الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 85 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 85

AY۔اسی طرح حدیت ہوتی ال أخر الانبياء و أنتم أحد الأمم بھی ہمارے موقف کے خلاف نہیں کیونکہ ظلی نبی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چا کہ آخری سند ہیں اور وہ خود ایک پہلو سے بہی اور دوسرے پہلو سے اقتی بھی ہے اس لئے وہ نہ نئی امت بنائے گا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قل ہونے کی وجہ سے کوئی نیا نہی ہوگا۔نئی است و ہی نبی بناتا ہے جو کوئی نئی شریعیت لائے یا مستقل نبی ہو۔البتہ حضرت علئے علیہ السلام جو قبول مفتی عنات تشریعی نبی تھے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی نبوت میں کسی تغیر کے بغیر آجائیں۔تو وہ نئی امت بنانے والے نبی بن جائیں گے اور یہ دھر اس حدیث نبوی کے خلاف ہے۔احادیث الانبي بعدِینی ۳- احادیث نبویہ جو لا نبی بعدی کے لصحيح تشریح الفاظ پر شامل ہیں وہ ہمارے موقف کے خلاف انہیں کیونکہ علماء امت نے ان الفاظ کی تشریح کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع نبی پیدا نہیں ہوسکتا جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے چنانچہ امام علی القاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:۔حديث لأوفى بعدى باطل لا أصل له نعم ورد لاني بندِى مَعْنَاهُ عِنْدَ العُلَمَاءِ لاحد بعدة نبي بشرح يَنْسِخُ شَرْعَهُ : الاشاعة في واشرها المشرب الور دهانی قریب المهدی ملک بکتاب رحمانی مهدی مولوی حافظ عبد الرحمن ماڈل ٹاؤن لاہور (