الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 79
Ax اور کی کہ کو تو نا دے گا۔اور آپ کی تحصیلت خاتم الا نبیاء ہونے کی چھین لے گا۔اور آپ کی پیروی سے نہیں بلکہ براہ راست مقام نبوت کامل رکھنا ہوگا۔اور اس کی عملی حالتیں شریعت محمدیہ کے مخالف ہونگی اور قرآن شریف کی صریح مخالفت کر کے لوگوں کو فلسفہ میں ڈالیگا اور اسلام کی تنگ ملات کا موجب ہوگا۔یقینا سمجھو کہ خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا۔بے شک صدیوں میں مسیح موعود کے ساتھ بیٹی کا نام موجو د ہے مگر ساتھ اس کے اتنی کا نام بھی تو موجود ہے اگر موجو د بھی نہ ہوتا تو مفاسد د کورہ بالا پر نظر کر کے ماننا پڑتا کہ ہرگز ایسا ہونہیں سکتا کہ کوئی مستقل نبی انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آو ہے۔کیونکہ ایسے شخص کا آنا ہر مسیح طور پر ختم نبوت کے منافی ہے۔اور یہ تاویل کہ پھر اس کو امتی بنایا جائے گا اور و ہی تو مسلم بینی مسیح موعود کہلائے گا۔یہ طریق عربیت اسلام سے بہت بعید ہے جس حالت میں حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی است میں سے یہود پیدا ہوں گے تو افسوس کی بات ہے کہ یہود تو پیدا ہوں اس امت میں سے اور مسیح باہر سے آدے۔کیا ضرورت ہے کہ حضرت پیلے کو آسمان سے اتارا جائے اور اس کی مستقل نبوت کا جامہ اتار کر امتی بنایا جائے : (حقیقة الوحی (۳) ان اقتباسوں سے ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے دونوں معنی حقیقت الوحی میں بھی مذکور ہیں۔مریعنی اقامہ رومانیہ سے آئندہ اتنی کے فصلی بنی بننے کا ذکر میبی