الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 70
بھی خاتم النبیین کا قیاس نہیں ہوسکتا۔کیونکہ خاتم الفاتحین کا مفہوم ابوالفاتحین نہیں ہے اور خاتم النبین بلحاظ سیاق آیت ابو الانبیاء کے مظوم مشتمل ہے۔اب رہ گیا خاتم المہاجرین اور خاتم المساعد والی حدیثوں میں خاتم البيتين کا استعمال سو اس کی وضاحت اور تشریح ذیل میں درج ہے۔خاتم المہا جرین والی حضرت عباسی سے متعلق حدیث نبوی المهاجرین حد اطْمَعَنَ يَا عَةِ فَإِنَّكَ عام المادين حدیث کی مصاحت فِي الهِجْرَة كَمَا أَنَا مَا فَعَ النَّبِيِّينَ آنَاهَا في التبوية ركنز العمال جلدي مشكلة کہ اسے چاہا آپ مطمئن ہو جائیں آپ ہجرت جاریہ از مکہ کے آخری جابر ہیں میں طرح میں نبوة تجاریہ کا آخری بنی ہوں۔اس حدیث میں ہے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خانیت زمانی سے حضرت عباس کی خاتمیت ہجرت کو تشبیہ دی ہے۔لیکن حضرت عبائی کے خاتم المہا جرین ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ مکہ سے مدینہ والی ہجرت جاریہ کے لحاظ سے آخری فرد ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ اسلام سے اس وقت ناک کی نبوت جاریہ تشریعیہ و مستقلہ کے لحاظ سے آخری فرد نہیں۔اس حدیث کے رو سے حضرت عباس کو خاتم المہاجرین قرار دینے سے آئندہ شرعی ہجرت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔صرف مکہ سے مدینہ کی طرفت بیرت بند ہوئی ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری تشریعی دوستقل نہی ہونے کی وجہ سے صرف تشریعی اور مستقلہ نبوت منقطع ہوئی ہے کہ غیر تشریعی