الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 71 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 71

اصلی نبوت۔چنا نچہ دیکھ لیجئے ہجرت مکہ کے بعد مہندی مسلمانوں کو تند سنتان سے ہجرت کرنا پڑی ہے اور فلسطینی مسلمانوں کو فلسطین سے ہجرت کرنا پڑی ہے اور خود مفتی محمد شفیع صاحب ہندوستان سے مباہلہ ہو کہ پاکستان میں دارد ہوئے تھے۔اس خاتم المہاجرین کے ساتھ فی المجرة کے الفاظ اور خاتم النبین کے ساتھ فی الشہوت کے الفاظ ہجرت مخصوصہ اور بوت مخصوصہ کے انقطاع کے لئے قوی ترمینہ ہیں۔اس سے ہجرت مطلقہ اور نبوت مطلقہ کا جواز قائم رہتا ہے۔دھمذا هو المراهرة جناب مفتی صاحب پر واضح ہو کہ بے شک مجید خاتم المساجد کے مینی ہوئی خاتم المساجد یا آخر المساجد ہے۔مگر یہ نئے طریق عبادت کے لحاظ سے سب مساجد سے آخری ہے اور اس کے بعد کسی نئے طریق عبادت کے لئے کسی مسجد کا بنانا نا جائز ہے نہ کہ ایسی مساجد کا بنانا بھی نا جائز ہے جن میں مسجد بلبری والا طریق عبادت جاری ہو۔میں مسجد نبوی آخر المساجد ان معنوں میں نہیں کہ اس کے بعد اسلامی طریق عبادت کے لئے کسی مسجد کا بنانا جائز نہیں۔لہذا تمام مساجد جو اس کے بعد اسلامی طریق عیادت کے لئے بنائی گئی ہیں وہ مسجد نبوی کا خلق ہیں۔اسی طرح خاتم النبین کے بعد مطلق نبوت منقطع نہیں ہوئی بلکہ صرف تشریعی اور مستقلہ نبوت منقطع ہوتی ہے نہ کہ غیر تشریعی منی نبوست یا بالفاظ دیگر علی نبوت چنانچو شیخ اکبر حضرت تھی الدین ابن عربی اور امام شعرانی لکھتے ہیں:- فما ارتفعت الشبوة بالكلية ويهد اللنَا إِنَّمَا