الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 69 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 69

میں نہیں خاتم النبین مانتے ہیں اور آخری شارع بنی ہونے کو اس کا لازم المعنی جانتے ہیں۔اس لئے خاتم النبین کو تو ان دو معنوں مشتمل ہے ہم ایک ہی منے رکھنے والی اور مجازی معنیٰ میں استعمال ہونے والی مثالوں پر قیاس نہیں کر سکتے۔آیت قرآئنیہ خاتم النبین کا سیمان آپ کو ابو الا نبیاء قرار دیتا ہے او رافت غربی ان معنی کی مؤید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے ظہور میں بطور علت موثر ذریعہ ہیں مفتی صاحب کی پیشی کردو مثالوں میں خاتم کے موثر ذریعہ ہونے کے معنی نہیں لگ سکتے۔لہذا خاتم النبین کا ان امثلہ پر قیاس نہیں ہو سکتا۔یہ قیاس اس لئے بھی قیاس مع الفارق ہے کہ اوپر کی مثالوں میں مضاف الیہ گروہ سوائے خاتم المساجد کے ایسے افعال پر مشتمل ہے جو کوئی دائی دوست نہیں۔چنانچہ فعل معلو - رحلت کوب - ذاب ، قدوم کے محض وقتی اور عارضی افعالی ہیں۔اور خاتم النبیین میں نبوت کا وصف دوام رکھتا ہے۔لہذا ان عارضی اور دقتی افعال پر یشتمل امثلہ پر خاتم النبین کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ماسوا اس کے ان امثلہ میں مضاف الیہ گروہ کا الفت نام صد خارجی یا استغراق عرفی کا ہے لیکن خاتم البين کا العث قام بالحاظ ابو الا نبیاء ہونے کے استغراق حقیقی کا ہے۔یہ بات می دوسری باتوں کے ساتھ مل کر خاتم النبین کا ان مثالوں پر قیاس کرنے میں مانع ہے۔خاتم الفاتحین کی مثال اگر غیر معمولی لیے زمانہ سے تعلق رکھتی ہو تو اس پر