الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 63 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 63

۶۴ کے امتی بھی۔لیکن یہ صورت ہو تو پھر ان کی <mark>مستقل</mark>ہ اور تشریعیہ خوت میں ت<mark>غیر</mark> آجائے گا۔اور ایک <mark>نئی</mark> قسم کی نبوت ان کے ذریعہ حادث ہو جائیگی جس کا حامل، ایک پہلو سے نہی ہوگا اور ایک پہلو سے امتی۔لہذا اس <mark>نئی</mark> قسم ثبوت کا صدرت کیوں کہ ہو سکتا ہے۔مفتی صاحب کے خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے یہ معنی حدیث میں لوک ہو سکتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصفت نبوت پانے میں سب سے آخری ہیں لیکن حضرت میسے علیہ السلام کے دوسری بار آنے سے وہ ایک <mark>نئی</mark> قسم کی نبوت کے وصف سے متصف ہو جائیں گے ، اس مینی مفتی صاحب کے یعنی باطل ہو گئے کہ بنی کریم صلے اللہ علیہ وسلم وصف نبوت پانے میں آخری <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> ہیں۔اگر مفتی صاحب خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ن کے لازم المعنی آخری مبنی بلحاظ <mark>شریعت</mark> تامہ کا ملہ <mark>مستقل</mark>ہ الی یوم القیامہ قرار دیتے تو پھر ان کی ساری مشکلات حل ہو جائیں۔کیونکہ اگر بالفرض حضرت میلے زندہ ہوتے تو امتی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کی صورت میں آسکتے تھے۔اور اگر وہ وفات پاچکے ہوں جیسا کہ وہ در حقیقت وفات پاچکے ہیں تو امتی کے لئے نبوت پانے کا دروازہ کھلا رہتا ہے اس طرح کہ وہ ایک پہلو سے نہی ہو اور دوسرے پہلو سے اتنی بھی۔اور وہ نزول <mark>مسیح</mark> کی پینگوئی کا ہی <mark>بروز</mark>ی طور پر مسلمان ہو۔مفتی صاحب سے مل کر یہ بنا یہ مفتی صاحب لکھتے ہیں ان یا در ہے کہ اس رسالہ میں ہی ہے کہیں ہم نے تشریعی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اور <mark>غیر</mark> تشریعی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کے الفاظ لکھے ہیں۔ان سے مراد یہ ہے کہ شریعیت مدیدہ لائے ہوں یا پہلی ہی +