الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 62 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 62

خاتم النبیین کے معنے شئی کو بند کرنے والی شہر لے کر اس کا مفہوم بنایا ہے کہ ڈر کے اندر کوئی چیز باہر سے واصل نہیں ہوسکتی۔لیکن آپ نے یہ نہ سوچا کہ شہر سے جو چیزیں بند کر دی جائیں ان میں سے کوئی چیز ٹھر توڑے بغیر باہر بھی نہیں نکل سکتی۔جب خاتم النبیین کی مہر نے سب انبیاء سابقین کو بند کر دیا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت میلے علیہ السلام مر توڑے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیسے آسکتے ہیں ؟ چونکہ ٹر ٹوٹنے سے ختم نبوت با اطل ہوتی ہے اس لئے حضرت عیلئے علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا محال قرار پاتا ہے اس سوال کا مفتی صاحب کے پاس کیا جواب ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ الغرض حضرت علی سے علیہ اسلام کسی طرح کمر توڑے بغیر کراماتی اور معجزانہ طور پر یا ہر آنھا ئیں تو باہر سے کراماتی اور مجھولانہ طور پر کیوں کوئی بینی اندر داخل نہیں ہو سکتا ؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر حضرت میلے علیہ السلام مہر توڑے بغیر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد آجائیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی نبوت مستقلہ تشریعیہ کے ساتھ آئیں گے۔اور اپنی شریعیت کی طرحت دنیا کو دعوت دیں گے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہو کر آئیں گے اور نبی ہی ہوں گے اور شریعت اسلامیہ پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اسی طرف دعوت دیں گئے۔پہلی بات کا تو مفتی صاحب انکار کریں گے وہ صرف اسی صورت میں ان کا آنا قرار دے سکتے ہیں کہ دھرنی ہی ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم