الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 61 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 61

۶۲ اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم آخری شره معیت منقطه لانے والے نبی ہیں جو تا قیامت جاری رہے گی۔کارش مفتی محمد شفیع صاحب نے مفردات القرآن کو جو قرآن مجید کی مستند گفت ہے اچھی طرح پڑھ لیا ہوتا تو انہیں معلوم ہو رہا تا کہ ختم کے مصدری معنی تاثیر الٹی اور اس کا اثر حاصل ہی ہیں اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ان معنوں میں قرار پاتے ہیں کہ آپ انبیاء کے ظہور میں بطور سبب و علت ایک موثر واسطہ ہیں۔اور تمام انبیاء کی نبوتیں آپ کی خاتم روحانی کا اثر حاصل ہیں۔مفردات القرآن کے مطالعہ سے آپ کو بھی معلوم ہو جاتا کہ شہر کے ذریعہ بند کرنا اور آخر کو پہنچنا عربی زبان میں لفظ ختم کے مجازی معنی ہیں نہ کہ حقیقی معنی۔ہم مغرمات کی عبارت قبل از میں پیشین کر چکے ہیں اس کے اعادہ کی اس جیگہ ضرورت نہیں۔خاتم کا استعمال محش آخری کے معنوں میں مجازی استعمال ہے لہذا خاتم القوم کے معنی آخر القوم بھی خاتم کے حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی معنی ہیں۔معن آخر النبیین کو خا تم النبی کی حقیقی معنے قرار دینے کا نتیجہ اب مفتی صاحب کے سامنے ہے کہ ان معنے کے لحاظ سے ان کے عقائد کے مطابق ان کی نادانستگی میں حضرت عیسی علیہ السلام آخر النبتين على الاطلاق باستغراق حقیقی قرار پا کر مفتی صاحب کے مرحوم محقیقی معنی میں قیمتی خاتم النبین بن رہے ہیں او آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وصف غانم البسی کی چھین لینے والا قرار پا رہے ہیں۔مفتی صاحب سے تین اہم سوال :۔پھلا سوال ایمفتی صاحب نے