الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 58 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 58

اس عبارت سے ظاہر ہے بادشاہ یعنی خاتم الحکام کے مائت حاکموں کا ہونا بادشاہ کے خاتمہ احکام ہونے کے خلاف نہیں۔پھر مولا نا محمد قاسم کیا ہے کے اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم صرف خاتم النبیین ہی نہیں بلکہ خاتم الکاملین بھی ہیں۔پس جس طرح خاتم الکاملین کے وست کے فیض سے کامل لوگ امت میں پیدا ہو سکتے ہیں اسی طرح قائم نیستین کے وصف کے فیض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں غیر تشریعی امتی نبی بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ہاں جس طرح خاتم انکا ملین ہونے کی وجہ سے ان سب کا ملوں سے جو آپ کے فیمن سے پیدا ہوں آپ انتہائی کمال پر پہنچے ہوئے قرار پاتے ہیں۔اسی طرح آپ کے وصفت خاتم النبین کے فیض سے اتنی نبی پیدا ہونے پر آپ اپنی نبوت میں انتہائی کمال پر پہنچے ہوئے قرار پاتے ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شریعیت نامه کامله مستقله الی یوم القیامہ لانے کی وجہ سے سب پہلے پہیوں اور کھلنے نہیوں کے مقابلہ میں آخری تشریعی نبی قرار پاتے ہیں۔پہلوں سے آخری تو ظاہر ہے پچھلوں سے آخری لحاظ شریعیت مستقلہ ان کے لئے آخری سند ہونے کی وجہ سے ہیں۔اس طرح النبیین کا الف لام خاتم النبین کے معنی آخر النبیین لے کر بھی استغراق حقیقی کا رہتا ہے اور یہ معنی خاتمیت مرتبی کے اور عالیت زمانی کے بھی خلاف قرار نہیں پاتے۔لیکن مفتی محمد شفیع صاحب کے عقید کے مطابق کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کم