الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 59
خاتم النبتين ممن و صنعت نوبت پاتے ہیں آخری مفتی صاد کے معنوں سلام ڈبل بنی ہونے کے لحاظ سے ہیں جب حضرت لیے علیہ السلام با لفرض آئیں تو چونکہ ان ت على علا بی علیان بن بن جاتے ہیں کے نزدیک حضرت عیسی علیہ اسلام کے بعد قیامت تک کوئی اور بنی نہیں آئے گا۔اس لئے حضرت علی علیہ اسلام على الاخلاق اثر النبيين بالف لام استغراق حقیقی بن کر خاتم النبيين حقیقی بن جاتے ہیں۔کیونکہ ان کے نزدیک خاتم المقوم کا محاورہ قوم کا آخر فرد خاتمہ کے حقیقی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسی محاورہ کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی معنوں میں آخر النبین ہیں۔پھر حضرت عیسے عدیلہ اسلام حضن آخر النبتين على الاطلاق باستغراق حقیقی بن کر صرت حقیقی خاتم النبیین ہی قرار نہیں پاتے ملکر دہ ڈیل حقیقی خاتم النبین بن جاتے ہیں۔کیونکہ مفتی صاحب نے آدم علیہ السلام کے علاوہ ہر بھی کو پہلے آنے والے کے مقابلہ میں آخر قرار دے کر ان پرخاتم النبین کا صادق آنا تحریر کیا ہے۔پس حضرت کیلئے علیہ السلام اپنے سے پے تمام نبیوں سے آخر میں آنے کی وجہ سے مفتی صاحب کے نزدیک حقیقی اتم النبتين بمعنى آخر البيتين باستغراق عرفی : الف لام عهد خارجی تھے تو نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آگرا فرانسین علی الاطلاق باستغراق حقیقی ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بامتناہی ڈیل حقیقی خاتم النبین بن جائیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسر مفتی منا سے