الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 57 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 57

اس کے ماتحت ہوتا ہے اس لئے اس کے احکام اور وں کے احکام کے تاریخ ہوں گے اوروں کے احکام اس کے احکام کے تابع نہ ہوتے اس لئے یہ ضرور ہے کہ وہ خاتم زمانی بھی ہو کیونکہ اوپر کے حاکم پیک نوبت سب حکام با تخت کے بعد آتی ہے اس لئے اس کا حکم آخر حکم ہوتا ہے چنانچہ ظاہر ہے پارلیمنٹ تک مرافعہ کی نوبت سب ہی کے بعد آتی ہے ہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ کسی اور اپنی نے دعوای طاقیت نہ کیا۔کیا تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چنانچہ قرآن و حدیث میں یہ مضمون تفریح موجود ہے۔(مباحثہ شاہجہانپور ۲۴ ۲۵ ) مولانا محمد قاسم صاحب کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ماتحت کسی نبی کا آنا جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت آخری فیصلہ اور آخری محکم دسند ہو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کے خلاف نہیں بلکہ مطابق ہے۔تیز مولانا محمد قاسم صاحب تحریر فرماتے ہیں :- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام مراتب کمال اسی طرح ختم ہو گئے جیسے بادشاہ پر مراتب حکومت ختم ہو جاتے ہیں اس لئے بادشاہ کو خاتم استحکام کر سکتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الملاطین و خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں: رحمہ اللہ ۳۵۳)