الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 49
اُن لوگوں کو جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔یہ آیت واضح طور پر باقی ہے کہ امت محمدیہ میں خلفاء امت میں سے ہی ہوں گے جو ایمان لا کر اعمال صالحہ سبجا لانے پہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خلیفے ہوں گے۔جیسے کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ خلیفہ ہوئے کے خلفاء کو پنی پہلے گزرے ہوئے خلفاء کے مشابہ یا ان کا مثیل قرار دیتی ہے۔اور پہلے گزرے ہوئے خلفاء کو مشتبہ ہر قرار دیتی ہے چونکہ مشتبہ مشبہ یہ کا غیر ہوتا ہے۔اس لئے اس امت میں سے حضرت کیلئے علیہ السلام کا جو خلیفتہ اللہ تھے کوئی منشا بر او مثیل ہو کر تو خلیفہ ہو سکتا ہے مگر خود حضرت خلیئے علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ نہیں ہو سکتے کیونکہ اس صورت میں مشتبہ اور کشتہ یہ کا تعین ہونا لازم آتا ہے اور یہ محال ہے۔کیونکہ مشتبہ مشبہ یہ کا غیر ہوتا ہے۔خود حضرت عیسی علیہ اسلام کا ملبہ بھی ہونا اور شبہ یہ بھی ہونے کا یہ ضحکہ خیز جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت علی علیہ اسلام کے مشاء ہوں گے۔میں مفتی صاحب کو ان حقائق کی موجودگی میں اپنی اصلاح کرنی چاہئیے اور خاتم النبین کی ایسی تفسیر نہیں کرنی چاہیئے۔جس سے حضرت لیے علیہ السلام تو علی الاطلاق خاتم اللبن بن جائیں۔اوس انحل سے اللہ علیہ وسلم بعید صورت میں ادھورے خاتم النبین رہ جائیں۔